2016 اقتصادی ترقی کے لیے ’مایوس کن‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شرح سود بڑھنے سے امریکی ڈالر کی قدر بڑھے گی اور کئی کمپنیاں دیوالیہ ہو سکتی ہیں: سربراہ آئی ایم ایف

عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ سال 2016 معیشت کی ترقی کے لحاظ ’مایوس کن‘ سال ثابت ہو سکتا ہے۔

بدھ کو عالمی مالیاتی ادارے کی سربراہ کرسٹینا لیگارڈ نےجرمنی کے اخبار میں ایک آرٹیکل لکھا ہے۔ جس میں انھوں نے کہا کہ امریکہ میں شرح سود میں اضافے اور چین کی اقتصادی ترقی کی رفتار میں سست روی کی وجہ سے آئندہ سال کے دوران بھی عالمی معیشت عدم استحکام کا شکار رہے گی۔

’عالمی معیشت ایک نئے خطرناک دور میں‘

چین کی معیشت تباہی کے دہانے پر نہیں پہنچی: آئی ایم ایف

عالمی معیشت کی حالت اچھی نہیں

آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک کے مالیاتی نظام میں اتار چڑھاؤ، خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی اقتصادیات پر منفی اثرات سے آئندہ سال عالمی معیشت میں زیادہ ترقی کے امکانات نہیں ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ’ درمیانی مدت کے لیے معیشت پر بہت دباؤ ہے کیونکہ پیدوار کم ہے، معمر آبادی کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور مالیاتی بحران کی وجہ عالمی معیشت کا پیہ رک رک کر چل رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ امریکہ میں بھی اب سستے قرضے حاصل کرنا کا دور ختم ہو رہا ہے اور امریکی سینٹرل بینک شرحِ سود کو بڑھنے کے ساتھ ساتھ مالیاتی نظام کو بھی کسی بڑھے بحران بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ جب فیڈرل ریزور بینک آف امریکہ کے شرح سود میں اضافے کے اعلان کے بعد دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں گر گئی تھیں۔

آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ ’شرح سود بڑھنے سے امریکی ڈالر کی قدر بڑھے گی اور کئی کمپنیاں دیوالیہ ہو سکتی ہیں جس سے بینک اور حکومتوں کے متاثر ہونے کا خطرہ بھی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ امریکہ کے شرح سود میں اضافے کا اثر دوسرے ممالک پر بھی ہو گا اور مالیاتی نظام میں سختی سے انھیں زیادہ قرضے لینے پڑیں گے۔

آئی ایم ایف کے مطابق طویل مدت میں عالمی معیشت میں عدم استحکام کی توقع ہے اور خطرہ اس بات کا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں ان حالات سے کیسے نمبرد آزما ہوتی ہیں؟

اسی بارے میں