فلسطینیوں کی ہلاکت پر خوشیاں منانے والے اسرائیلی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ .

اسرائیلی پولیس کے مطابق ان چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو شادی کی ایک ویڈیو میں بظاہر ایک فلسطینی گھرانے پر مہلک حملے پر خوشیاں منا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق گرفتار کیے جانے والے چار افراد میں دولھا بھی شامل ہے۔

شادی کی مذکورہ ویڈیو میں مہمانوں کو ہھتیار لہراتے، خوشی کے گیت گاتے اور رقض کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مہمانوں میں ایک شخص کو اس فلسطینی بچے کی تصویر میں چھرا گھونپتے بھی دیکھا جا سکتا ہے جو جولائی میں فلسطینی گھرانے پر حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

اسرائیلی ٹیلی ویژن پر ویڈیو کے نشر ہونے کے بعد وزیرِاعظم بن یامین نتن یاہو نے ویڈیو میں دکھائے جانے والے ’نفرت انگیز‘ مناظر کی مذمت کی ہے۔

ویڈیوں میں شادی میں شریک لوگوں کو ایسے گیت گاتے سنا جا سکتا ہے جس میں فلسطینیوں سے انتقام لینے کا کہا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور وہ اسے لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے معاملے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے مذکورہ ویڈیو میں ایک شخص کی شناخت کی ہے جو ان کے بقول غرب اردن کے مقبوضہ علاقے میں واقع ایک یہودی آبادی کا رہائشی ہے۔

اسرائیلی پولیس نے چار افراد کو ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے ایک ہفتے بعد گرفتار کیا ہے۔

یہ ویڈیو دسمبر کے اوائل میں یروشلم میں ایک یہودی شادی کی تقریب کے موقعے پر بنائی گئی تھی۔

ویڈیو کلپ میں قدامت پسند یہودی نوجوانوں کو رقص کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جہاں وہ چاقو، بندوقیں اور آگ کے گولے لہراتے ہوئے ایسے گیت گا رہے ہیں جن میں فلسطینوں سے انتقام لینے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

تقریب میں شامل ایک مہمان کو 18 ماہ کے فلسطینی بچے علی دوابشا کی تصویر میں چھرا گھونپتے دیکھا جا سکتا ہے جو اس وقت مارا گیا تھا جب دوما نامی فلسطینی گاؤں میں ان کے گھر پر آتشیں مواد سے حملے کیا گیا تھا۔

بچے کے والدین، سعد اور ریحام، بھی اس حملے میں ہلاک ہو گئے تھے جبکہ بچے کا پانچ سالہ بھائی حملے میں زخمی ہو گیا تھا۔

اس حملے کے شبہے میں اسرائیلی حکام نے کئی یہودی نوجوانوں کو گرفتاری کیا ہے جن کا تعلق ایک ’یہودی دہشت گرد تنظیم‘ سے بتایا جاتا ہے۔