شام میں کرد علاقوں میں بم دھماکے، نو افراد ہلاک 20 زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حالیہ کچھ عرصے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے کردوں کے علاقے میں کئی بم دھماکے کیے ہیں

شام کے شمال مشرقی صوبے حسکۃ میں میں کردوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں پہ در پہ تین بم دھماکے ہوئے ہیں۔بدھ کی شب ہونے والے ان دھماکوں میں کم سے کم نو افراد ہلاک ہوئے اور 20 سے زائد زخمی ہیں۔

برطانیہ میں موجود سیئرین آوبزویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ دو بم دھماکے ترکی کی سرحد کے قریب کامیشی میں ریسٹورنٹ میں ہوئے۔

شام میں کرد جنگجوؤں کا ’اہم فوجی اڈے پر قبضہ‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ان بم دھماکوں میں سے ایک خودکش بم حملہ تھا، جو مسیحی آبادی کے علاقے کے قریب ایک ریسٹورنٹ میں کیا گیا۔

واضع رہے کہ ترکی کی سرحد کے قریب کامیشی کے علاقے میں کرد افواج کا عسکری اڈہ ہے ۔ شام اور عراق میں کرد افواج شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے لڑ رہے ہیں۔

کامیشی کا علاقے کا شمار خودمختار علاقوں میں ہوتا اور کرد اور شامی حکام مشترکہ طور پر اس کی ذمہ دار ہیں۔

خبر رساں ادارے رویئٹرز کے مطابق کرد افواج کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ بم دھماکےشدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے کیے ہیں۔

سیئرین آوبزویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے تیسرے دھماکے کی جائے وقوعہ کے بارے میں ابھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی حمایت کرنے والے ایک ویب سائٹ کے مطابق ان دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

شام میں کرد افواج دولتِ اسلامیہ کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہییں اور رواں سال اکتوبر میں کرد افواج امریکہ کے تعاون سے تشکیل پانے والی شام کی ڈیموکریٹ فورس شمولیت اختیار کی تھی۔

اس اتحاد نے ملک کے شمالی مشرقی صوبے حسکۃ میں رواں ماہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی شروع کی ہے جبکہ عراق میں کرد افواج نے کوہ سنجار کے علاقے کو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے خالی کروایا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے کردوں کے علاقے میں کئی بم دھماکے کیے ہیں جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں