پناہ گزینوں کا بحران: ’یورپی یونین نہ پہلے تیار تھی، نہ اب تک ہے‘

Image caption شام، عراق، افغانستان، اریٹریا اور صومالیہ میں جاری تنازعات اور مظالم لوگوں کو یورپ کی جانب دھکیل رہے ہیں

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کے سبکدوش ہونے والے سربراہ انتونیوگتیریس نے پناہ گزینوں کے بحران کے تناظر میں یورپی یونین کے ردعمل پر کڑی تنقید کی ہے۔

انتونیو گتیریس دس برس تک یو این ایچ سی آر میں کام کرنے کے بعد اس ذمہ داری کو خیرباد کہنے والے ہیں۔

دس لاکھ سے زائد تارکینِ وطن سمندر عبور کر کے یورپ آئے: اقوام متحدہ

انھوں نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ جب شامی پناہ گزین یورپی ممالک میں پہنچنا شروع ہوئے تو یورپی یونین اس کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی اور وہ اب بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ان کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے مسائل سے نمٹنے کے بارے میں یورپی ممالک میں شدید اختلافات ہیں اسی لیے اس بارے میں کوئی مربوط ردعمل سامنے نہیں آ سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض یورپی ممالک تو پناہ گزینوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

انتونیو کا کہنا تھا کہ اس طرح کے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے رضاکارنہ طور پر ملنے والی امداد ناکافی ہے اور اس کے لیے کوئی ایسا نظام ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس کے تحت ہر ملک اپنی استطاعت کے مطابق کچھ نہ کچھ ضرور کرے۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا میں تقریبا چھ کروڑ افراد بےگھر ہیں جبکہ دو ہزار پانچ میں یہ تعداد تین کروڑ 80 لاکھ تھی۔

Image caption یورپیئن کمیشن کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم کے ذریعے پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا تو سنہ 2017 تک یورپ آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد 30 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے

خیال رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اب یورپ کو تارکینِ وطن کے بحران کا سامنا ہے اور شام، عراق، افغانستان، اریٹریا اور صومالیہ میں جاری تنازعات لوگوں کو یورپ کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 کے دوران دس لاکھ سے زائد تارکینِ وطن سمندر کے راستے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔

منگل کو یورپ میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن سے متعلق یو این ایچ سی آر نے اپنی ویب سائٹ پر تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں داخل ہونے والے 80 فیصد تارکینِ وطن سمندر کا مشکل سفر طے کر کے یونان پہنچے ہیں۔

ادارے کے مطابق ساڑھے آٹھ لاکھ تارکینِ وطن ترکی سے یونان میں داخل ہوئے جبکہ ڈیڑھ لاکھ افراد لیبیا سے بحیرۂ روم عبور کے اٹلی پہنچے ہیں۔

یہ تعداد سنہ 2014 کے مقاملے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ 2014 میں محض دو لاکھ 16ہزار افراد سمندر کے راستے یورپ آئے تھے۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم کے ذریعے پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا تو سنہ 2017 تک یورپ آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد 30 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں