جنوبی افریقہ کے بادشاہ جیل پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption 51 سالہ ڈیلین ڈیبو 1989 میں بادشاہ بنے اور ان کی رعایا سات لاکھ نفوس پر مشتمل ہے

جنوبی افریقہ کے ایک بادشاہ بوئی لیخایا ڈیلین ڈیبو نے اپنی رعایا کو تشدد کا نشانہ بنانے کے جرم میں اپنے آپ کو جیل حکام کے حوالے کر دیا ہے اور اس طرح ان کی 12 سالہ قید کا آغاز ہو گیا ہے۔

ڈیلین ڈیبو جنوبی افریقہ کے دس بادشاہوں میں سے ایک ہیں جنھیں سرکاری طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور انھیں اپنی قبیلے کی رعایا کو راہ راست پر رکھنے کے لیے کچھ اخیتارات حاصل ہوتے ہیں۔

ڈیلین ڈیبو پہلے سیاہ فام صدر نیلسن منڈیلا کے بھتیجے ہیں۔

بادشاہ بوئی لیخایا ڈیلین ڈیبو پر الزام ہے کہ انھوں نے دو عشرے پہلے اپنی رعایا میں سے ایک خاندان کی طرف ان کے دربار میں حاضر ہونے سے انکار کی وجہ سے پورے خاندان کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنوایا جس کی وجہ اس نافرمان خاندان کا ایک فرد ہلاک ہو گیا۔ بادشاہ ڈیلین ڈیبو نے اس خاندان کاگھر تک جلوا دیا تھا۔

بادشاہ نے الزام کی تردید نہیں کی بلکہ ان کا موقف تھا کہ انھوں نے جو کچھ کیا وہ ان کے دائرہ اختیار میں تھا۔

بادشاہ کا تعلق تھمبو قبیلے سے ہے۔ نیلسن منڈیلا کا تعلق بھی اسی قبیلے میں سے تھا۔

ڈیلین ڈیبو جنوبی افریقہ کے پہلے بادشاہ ہیں جنہیں 1994 میں سفید فام نسل پرستانہ دور کے اختتام کے بعد جیل بھیجاگیا ہے۔

51 سالہ ڈیلین ڈیبو 1989 میں بادشاہ بنے اور ان کی رعایا سات لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

جنوبی افریقہ میں مختلف نسلی گروپوں کے دس بادشاہوں کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان بادشاہوں کے فرائض رسمی ہوتے ہیں اور وہ رعایا کے معمولی جھگڑوں کو نمٹانے کی طاقت رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈیلین ڈیبو جنوبی افریقہ کے پہلے بادشاہ ہیں جنھیں 1994 میں سفید فام نسل پرستانہ دور کے اختتام کے بعد جیل بھیجاگیا ہے

بادشاہ ڈیلین ڈیبو پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک عورت اور اس کے چھ بچوں کو اس وقت اغوا کر لیا جب ان کا ایک رشتہ دار انھیں بادشاہ کے دربار میں حاضر کرنے میں ناکام رہا تھا۔

بادشاہ ڈیلین ڈیبو نے بدھ کے روز عدالت کی طرف سے اپنی ضمانت میں توسیع سے انکار کے بعد مشرقی شہر ماتھاتھا میں خود کو جیل حکام کے حوالے کر دیا۔

اس سے قبل وزیر قانون مائیکل ماسوتھا نے ان کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں انھوں نے مقدمے کی ازسر نو سماعت کی استدعا کی تھی۔

جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ آف اپیل نے اکتوبر میں ان کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ بادشاہ ڈیلین ڈیبو کا رویہ انتہائی قابل افسوس ہے اور انھوں نے ان دیہاتی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جن کا انحصار انھی پر تھا اور یہ کہ ملک کا آئین ایسے رویے کی اجازت نہیں دیتا۔