وہ 16 برس کی ہوگئی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

21ویں صدی سولہ برس کی ہوگئی ہے۔ عمر کی وہ دہلیز جو بچپن اور جوانی کے درمیان ایک دھندلی سی لکیر کا کام کرتی ہے۔ چھلکتے ہوئے ہارمونز عجیب سی جھٹپٹاہٹ اور کشمکش کو جنم دیتے ہیں۔ زندگی بے فکر اور عشقیہ سی لگتی ہے۔

جب 21 ویں صدی پیدا ہوئی تھی تو بڑھیا ہونے والی گذشتہ صدی نے کہا تھا کہ دعا کرتی ہوں کہ تمہاری قسمت مجھ سے بہتر ہو۔ میں نے دو دو عالمی جنگیں دیکھیں، سرد جنگ دیکھی، جوہری بموں کو شہروں کو سپاٹ کرتے دیکھا، ملکوں کو تقسیم ہوتے دیکھا، لاکھوں کا قتل عام دیکھا، قحط اور فاقہ کشی دیکھی۔ وہ برے دن پھر واپس نہ آئیں یہی دعا کرتی ہوں۔

21ویں صدی اپنے توتلے منہ سے كلكارياں مار رہی تھی۔ امیدوں سے بھری ایک پوری زندگی اس کے سامنے تھی۔ لیکن مشکل سے نو ماہ ہی ہوئے تھے، وہ چلنا سیکھ ہی رہی تھی کہ دنیا کے سب سے طاقت ور ملک کے سینے پرگہرا وار ہوا۔ اس دن تاریخ تھی 11 ستمبر۔ 21 ویں صدی کی جنم كنڈلي شاید اسی روز لکھ دی گئی۔

بزرگ بڑھیا کی دعا قبول نہیں ہوئی۔ سو برس سے اس نے جو گٹھرياں جمع کی تھیں، اس کے بوجھ اور بدبو سے 21 ویں صدی بھی محفوظ نہیں رہ سکی۔ اس کا 16واں برس پوری دنیا منا رہی ہے لیکن بندوق اور وردی کے سائے میں۔ پٹاخے چل رہے ہیں لیکن بم اور گولیوں کی آواز میں دب سے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وہ 16 کی ہو گئی ہے لیکن نہ تو وہ بےفكر ہے اور نہ ہی وہ عشقیہ ہے۔ اس کمسن عمر میں ہی اس نے عراق کو جلتے ہوئے دیکھا ہے، شام کو پگھلتے ہوئے دیکھا ہے، افغانستان کو بدحال ہوتے دیکھا ہے اور پاکستان کو بے حال ہوتے دیکھا ہے۔ ممبئی، لندن، پیرس سب کو زخمی ہوتے دیکھا ہے۔

اس نے انسانوں کی ترقی بھی دیکھی ہے، ملکوں کی خوشحالی بھی دیکھا ہے لیکن ان سب پر نفرت کو بھاری پڑتے دیکھا ہے۔ بڑھیا کی میلی كچیلي گٹھری کے تہوں میں ضدی گندگی کی طرح پوشیدہ یہ نفرت نکلنے کا نام ہی نہیں لیتی۔

کسی نے اس سے کہا تھا کہ انسان جب دنیا میں نیا نیا آیا تھا تو اس نے گرجتے بادل، کڑکتی بجلی، آندھی، طوفان اور برے سپنوں کا خوف بھگانے کے لیے مذہب کو ایجاد کیا۔ پہلے پتھروں اور درختوں کی عبادت کی، پھر انسانوں کی پوجا کے بعد کتابوں کو پوجنا شروع کیا۔ لیکن جیسے جیسے وہ ترقی کرتا گیا، چاند اور مریخ تک چھلانگ لگانے لگا اور مذہب خوف بھگانے کا نہیں ڈر پھیلانے کا ہتھیار بن گیا۔

21 ویں صدی نے ان 16 سالوں میں مذہب کو صرف ایک دوسرے سے ڈرنے کی، ایک دوسرے کو ڈرانے کی وجہ بنتے دیکھا ہے۔

وہ سمجھ نہیں پا رہی ہے کہ کس سے بات کرے، کسے سمجھے اور کس کو سمجھائے۔ چاروں طرف صرف شور ہے۔ صحیح اور غلط کا فیصلہ گمنام، اور بغیر چہرے والی بھیڑ کرتی ہے۔ جو جتنی زور سے چیختا ہے، جو جتنی بھدی زبان کا استعمال کرتا ہے، 140 حروف میں جو جتنا زہر اگلتا ہے لوگ اسي كے پیچھے ہو لیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

16 وہ عمر بھی ہوتی ہے جب بزرگوں سے زیادہ دوستوں کی باتیں صحیح لگتی ہیں۔ بغاوت کی باتیں، بہکنے کی باتیں، بے فکری کی باتیں۔ لیکن اس کا تو کوئی دوست بھی نہیں ہے۔

جو نسل اس کے ساتھ پیدا ہوئی وہ تو مسجد، مندر اور گرجا گھروں میں قید ہے، ان کے کانوں تک تو بھیڑ کی ہی آواز پہنچتی ہے اور جیسے جیسے جوان ہو رہی ہے اس بھیڑ سے بھی زیادہ زہر اگل رہی ہے۔

ان سے بات بھی وہ کیا کرے۔ شري لال شکلا کی ایک کہانی کی لائن ہے۔ ’سب بول رہے تھے، کوئی سن نہیں رہا تھا۔‘ اس کے ہم عمروں کا بھی کچھ ویسا ہی حال ہے۔

21ویں صدی سولہ کی ہو گئی ہے تو لوگ اب یہ قیاس بھی لگا رہے ہیں کہ وہ کس کی بنے گی۔ بیجنگ کی ہو جائے گی، دہلی کو دل دے گی یا پھر واشنگٹن کے سائے میں ہی رہے گی۔

بڑھیا نے اس سے کہا تھا کہ کسی ایک کی ہو کے رہنا صدیوں کی فطرت ہی نہیں ہے۔ وہ خود بھی تو پہلے انگریزوں کی تھی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے امریکیوں کی بانہوں میں چلی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

صدیوں کا نہ تو کوئی سگائی ہوتی ہے، نہ ہی وہ عشق کے چکر میں پڑتی ہیں۔ ان کا قاضی اور پنڈت تو وقت ہے۔ وقت جب جس طرف اشارہ کرتا ہے وہ اسي كي ہو جاتی ہیں۔

موٹی موٹی کتابیں لكھنےوالے لوگ، ٹی وی پر بحث کرنے والے لوگ، دنیا کی ہر مشکل کا حل جاننے کا دعوی کرنے والے لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ 16 تو ویسے بھی ہلچل پیدا کرنے والی عمر ہوتی ہے، کچھ سالوں میں ٹھہراؤ نظر آنے لگے گا۔

نئی فوجیں بن رہی ہیں، ایک سے ایک مہلک ہتھیار تیار ہورہا ہے حالات ضرور بدلیں گے۔ جلد ہی 21 ویں صدی سکون کی سانس لے گی۔ اس کے بھی اچھے دن آئیں گے۔

بقول چچا غالب ’ایک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔‘

دل کو بہلانے کے لیے غالب یہ خیال اچھا ہو۔

اسی بارے میں