نئے سال سے پہلے شادی کی جلدی کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption بیجنگ میں شادی رجسٹر کروانے والے ایک دفتر کو ایک دن میں تین سو جوڑوں کی شادیاں رجسٹر کرنا پڑیں۔

چین میں نئے سال کی آمد پر کئی جوڑے اس بھاگم دوڑ میں مصروف رہے کہ ایک نئے قانون کا اطلاق ہونے سے پہلے شادی کے بندھن میں بندھ جائیں۔

نئے قانون میں متعارف کرائی جانے والی تبدیلیوں کے تحت دیر سے شادی کرنے والوں کے لیے چھٹی ختم کی جا رہی ہے۔

چین کے روزنامے ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ کے مطابق یکم جنوری سے لاگو ہونے والے نئے قانون کے تحت اگر لڑکی 23 سال کی عمر تک اور لڑکا 25 سال کی عمر تک شادی نہیں کرتے تو انھیں سال میں ملنے والی چھٹیوں کا بونس نہیں ملے گا۔

ملک کے مختلف علاقوں میں شادی کے لیے دی جانے والی چھٹیوں کی تعداد مختلف ہے شنگھائی میں شادی پر سات دن چھٹی ملتی ہے جبکہ شانکسی دولہا دولہن کو 27 دن چھٹی دی جاتی ہے۔

شادی کرنے والے ایک شخصن نے چیانگ بین نے شنگھائی میں اخبار کو بتایا ’ہم نے گذشتہ رات فیصلہ کیا کہ ہم اپنی شادی جلد از جلد رجسٹر کرا لیں گے تاکہ ہمیں موجودہ قانون کے تحت فائدہ حاصل ہو سکے۔ ہمارے لیے سال میں بہت زیادہ چھٹیاں نہیں ہوتیں لہذا سات دن کی چھٹی ہمارے لیے بہت ہے۔‘

شادی کرنے والوں کو چھٹی دینے کا مقصد چین میں رائج ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی کو تقویت دینا تھی تاکہ جوڑوں کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ خاندان بڑھانے میں تاخیر کریں۔ لیکن حکومت کہتی ہے کہ اب جبکہ پالیسی ختم کی جا رہی ہے، شادی کی اوسطً عمر 25 برس مختص کرنا ضروری نہیں ہے۔

بیجنگ میں ایک رجسٹری دفتر کو ایک دن میں تین سو جوڑوں کی شادیاں رجسٹر کرنی پڑی کیونکہ نوبیتا جوڑے قانون میں تبدیلی کا اعلان ہونے کے اگلے ہی دن وہاں پہنچ گئے تھے۔ گلوبل ٹائمز کے مطابق اوسطً ایک دن میں 70 سے 80 شادیاں رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔

ایک وکیل نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ جلدی کی ضروری نہیں کیونکہ مقامی حکومتیں ابھی ان تبدیلیوں کو اختیار کریں گی۔

وکیل لی ینگ چان کے مطابق ’قانون میں تبدیلیاں پہلے قومی سطح پر ہوتی ہیں اور مقامی سطح پر قانون کے اطلاق تاخیر ہوتی ہے۔ لہذا وہ لوگ جو اپنی شادی رجٹسر کرانے کیے لیے جلدی کر رہے ہیں، انھیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔‘

اسی بارے میں