’میونخ میں دولتِ اسلامیہ کے فوری حملے کا خطرہ نہیں‘

Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سے چھ مشتبہ افراد کی تلاش میں ہیں جو ممکنہ طور پر شامی یا عراقی ہو سکتے ہیں

جرمنی کے حکام کا کہنا ہے کہ نئے سال کے موقعے پر بند کیے جانے والے میونخ کے دو ریلوے سٹیشنوں پر کسی فوری حملے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق صورت حال اب بہتر ہو رہی ہے اور میونخ کے دو مرکزی سٹیشن آج صبح کھول دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عارضی بندش ضروری تھی کیونکہ انٹیلی جنس کو مخصوص وارننگ ملی تھی، جس میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے خودکش حملوں کا خطرہ ظاہر کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سے چھ مشتبہ افراد کی تلاش میں ہیں جو ممکنہ طور پر شامی یا عراقی ہو سکتے ہیں۔

وزیرِ داخلہ سے مطابق اب ملک میں سکیورٹی الرٹ گذشتہ رات سے پہلے والا ہو گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت یورپ میں عمومی طور پر بھی مستقل دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔

میونخ الرٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حکام کے پاس کسی مخصوص مقام کے بارے میں تنبیہہ نہیں آئی ہے۔

میونخ کے پولیس چیف ہیبرٹس آندرے کا کہنا تھا کہ ان کے اہلکاروں نے کچھ نام دیے ہیں جنھیں پولیس کے ڈیٹا بیس سے چیک کیا جا رہا ہے لیکن انھیں تاحال کسی مشتبہ شخص یا ان کی پناہ گاہ کے بارے میں علم نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وزیر داخلہ کے مطابق صورت حال اب بہتر ہو رہی ہے اور میونخ کے دو مرکزی سٹیشن آج صبح کھول دیے گئے ہیں

انھوں نے میونخ کے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ پہلے کی طرح معمول کی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔

پولیس کے ترجمان کے مطابق دولتِ اسلامیہ کی جانب سے حملے کے بارے میں خبر فرانس کی خفیہ ایجنسی نے دی تھی۔

سال نو کی تقریبات کے سلسلے میں پورے یورپ میں سکیورٹی ہائی الرٹ تھا بلکہ یورپ کے کئی بڑے شہروں میں سال نو کے جشن کی تقریبات منسوخ کر دی گئی تھیں۔

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں تقریبات کی منسوخی کے بعد پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے کے بعد بعض مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔

سکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ مشتبہ دہشت گرد سال نو کی تقریبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اسی بارے میں