جنگ کی تباہی میں امید کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ

جب گذشتہ مارچ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا تو صبا جلاس حیران رہ گئیں کہ کتنی جلدی یہ سب کچھ ہو گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں ہمیشہ سے ہی ایک خوش فہم شخص رہی ہوں لیکن جب جنگ شروع ہوئی تو اس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔‘

دوسرے یمنی شہریوں کی طرح جلاس بھی جنگ کے شروع کے مہینوں میں اس کے ملک پر اور ان کے خاندان پر پڑنے والے اثرات کا مقابلہ کرنے کے طریقے ڈھونڈنے کی کوشش کرتی رہیں۔

’مجھے اپنے آپ کو منفی احساسات اور خیالات سے بچانا تھا۔ میں نے انٹرنیٹ پر ہر جگہ ڈھونڈا کہ کس طرح ان احساسات سے چھٹکارا حاصل کروں۔‘

آخر کار انھیں فلسطینی آرٹسٹوں کے ایک گروہ سے تحریک ملی جنھوں نے غزہ پر حملے کو مزاحمت کے پیغامات میں بدل دیا تھا۔

انھوں نے اپنے سمارٹ فون کو اپنے پیغامات اور یمن میں دھماکوں اور تباہ شدہ عمارتوں کی تصاویر بنانے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور بربادی کی تصاویر کو خوبصورتی حتیٰ کہ امید میں بھی بدلنے کی کوشش۔

تصویر کے کاپی رائٹ

یمن میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب شمالی حوثی قبائل نے دارالحکومت صنعا کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد جنوب کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ جب سے سعودی اتحاد نے یمنی حکومت کے کہنے پر یمن میں فضائی حملے شروع کیے ہیں کچھ اندازوں کے مطابق 6000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ عام شہری ہیں۔

جلاس نے، جو یہ نہیں بتانا چاہتیں کہ وہ کس جگہ پر ہیں، اپنی تصاویر فیس بک پیچ پر پوسٹ کی ہیں، اس امید پر کہ ان سب بری خبروں میں ان کا مثبت پیغام بھی کہیں پہنچے گا۔

’میں نے ڈرائنگ کے ذریعے مرہم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ڈرائنگ زیادہ کچھ نہ بدلیں لیکن جب لوگ مجھے پیغام بھیجتے ہیں اور مجھے بتاتے ہیں کہ میری ڈرائنگ سے انھیں امید نظر آتی ہے تو میری خوشی کی انتہا نہیں ہوتی۔‘

جلاس کی زیادہ تر ڈرائنگ لڑکیوں اور بچوں کو پکڑے ہوئے خواتین کی ہیں یا ان میں خوشی نظر آ رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’شاید اس لیے کہ میں عورتوں کو ہمدردی کی علامت کے طور پر دیکھتی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

دوسری ڈرائنگز میں لوگوں کو پر امن حالات میں روایتی یمنی کپڑے پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے اور کچھ میں سکولوں کی تباہ ہونے والی عمارتوں کی مرمت دکھائی گئی ہے۔

2010 میں جلاس کو ایک صدمہ پہنچا تھا۔ ان کے بھائی جو کہ آرمی میں تھے ہلاک کر دیے گئے تھے۔ ابھی یہ تک صاف نہیں کہ ان کی موت کن حالات میں ہوئی لیکن جلاس کہتی ہیں کہ یہ یمنی معاشرے کی تقسیم کا نتیجہ ہے اور حالیہ لڑائی بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ جو بھی یمن میں ہو رہا ہے اس میں ہم سب کے لیے ایک سبق موجود ہے۔ ہمیں اپنے درمیان اختلافات کو قبول کرنا سیکھنا چاہیے۔ جب ہم نے اپنے ہتھیار اٹھا لیے اور خوبصورتی اور آرٹ کو نکال باہر کیا تو اس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔‘

اسی بارے میں