گن کنٹرول:’اب کوئی بہانہ نہیں چلے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس اعلان کے وقت صدر کے دونوں گالوں پر آنسوؤں کی دھار دکھائی رہی تھی

امریکی صدر براک اوباما نے ملک میں اسلحے کی خریداری سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عدم کارروائی کے لیے بہانہ بازی‘ کا سلسلہ روکنا ہوگا۔

انھوں نے یہ بیان امریکہ میں گذشتہ چند برسوں میں اور شکاگو جیسے شہر میں آئے روز فائرنگ کے واقعات میں نشانہ بننے والوں کے لواحقین اور زندہ بچ جانے والوں کے درمیان کھڑے ہو کر تقریر کے دوران دیا۔

وائٹ ہاؤس میں منگل کو تقریر کے دوران صدر اوباما سنہ 2012 میں سینڈی ہک پرائمری سکول میں 20 بچوں کی ہلاکتوں کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔

اسلحے کا غیر قانونی استعمال روکنے کے لیے صدارتی حکم نامہ

امریکہ کا مہلک ’گن کلچر‘

بندوق کی لت آسانی سے نہیں چھٹ سکتی

اسلحے کے خریداروں کی جانچ پڑتال کی نئی پابندیوں کی منظوری کانگریس سے نہیں لی گئی اور یہ ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے نافذ کی جا رہی ہیں۔

امریکہ کی قومی رائفل ایسوسی ایشن نے بھی کہا ہے کہ وہ ان اقدامات کا مقابلہ کرے گی جبکہ ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال ریان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا ایگزیکیٹو آرڈر یقینی طور پر عدالت میں چیلینج ہوگا۔

انھوں نے براک اوباما پر آزادی پر قدغن لگانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’ان کے الفاظ اور اقدامات ایک قسم کا دباؤ ہیں جو آزادی کو کمزور کر رہا ہے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ اسلحہ کے لیے لابیئنگ کرنے والوں نے کانگریس کو یرغمال بنا لیا ہے لیکن وہ امریکہ کو یرغمال نہیں بنا سكتے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آئے دن کی فائرنگ میں مرنے والوں امریکی لوگوں کی تعداد سڑک حادثوں میں مرنے والوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انھوں نے یہ بیان آئے روز فائرنگ کے واقعات میں نشانہ بننے والوں کے لواحقین اور زندہ بچ جانے والوں کے درمیان دیا

خیال رہے کہ امریکہ میں ہرسال فائرنگ کے واقعات میں 30 ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوتے ہیں، یہ شرح دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلحہ رکھنے والوں کے پس منظر اور ذہنی صحت کی جانچ پڑتال کو صدارتی حکم نامے میں شامل کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ چوری شدہ اسلحے کی معلومات دینے کے قانون کو بہتر طریقے سے لاگو کیا جائے گا۔

صدر اوباما کا کہنا تھا: ’اسی لیے ہم یہاں پہنچ چکے ہیں، گذشتہ شوٹنگ کے واقعے کے بارے میں کچھ کرنے کے لیے، بلکہ آئندہ ایسے واقعے سے بچنے کے لیے۔‘

خیال رہے کہ کانگریس اسلحہ فروشوں اور نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے دباؤ کے تحت اسلحے کے حصول کو محدود کرنے کے حوالے سے کوئی بھی قانون منظور کرنے میں ہچکچا رہی ہے۔

صدر اوباما کی جانب سے سنہ 2012 میں اسلحہ رکھنے والوں کے پس منظر کی تحقیقات کے حوالے سے قانون منظور کروانے کی کوشش کی تھی تاہم وہ کانگریس میں ناکام ہوگیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اوباما کے ناقدین ان پر اپنے اختیارات سے آگے جانے کا الزام لگا رہے ہیں

وائٹ ہاؤس نے پیر کو جو منصوبہ پیش کیا اس کے تحت:

  • تمام اسلحہ فروخت کرنے والے کے پاس لائسنس ہونا چاہیے اور وہ اسلحے خریدنے والوں کے ماضی کی جانچ کریں گے۔
  • حکومت ایسے لوگوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی جو ذہنی مریض ہیں یا خانگی تشدد کے مرتکب ہیں کیونکہ وہ اسلحہ رکھنے کے اہل نہیں ہیں۔
  • امریکی تفتیشی ادارہ ایف بی آئی اسلحے کے خریداروں کے ماضی کی جانچ کے لیے اپنے عملے میں 50 فیصد اضافہ کرے گا یعنی 230 نئے انسپکٹروں کی تقرری ہوگی۔
  • کانگریس سے ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے 50 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے کہا جائے گا۔
  • وزارت دفاع، انصاف اور ہوم لینڈ سکیورٹی ’سمارٹ گن ٹیکنالوجی‘ میں اسلحے کی سیفٹی میں اضافے کے طریقے تلاش کریں گے۔

صدر اوباما کا حالیہ اعلان سنہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات کے اہم موضوع کے طور پر سامنے آرہا ہے۔

ادھر امریکہ میں حزبِ اختلاف کی جماعت ریپبلکن پارٹی نے صدر اوباما کی جانب سے اسلحہ پر کنٹرول کے اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے صداعرتی امیدوار بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وہ صدر بنے تو یہ فیصلہ واپس لے لیں گے۔

امریکہ کی قومی رائفل ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر نے اپنی تقریر میں جو تجاویز دی ہیں ان پر عمل درآمد سے ملک میں عوامی ہلاکتوں کے واقعات کی روک تھام ممکن نہیں۔

اسی بارے میں