ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانیہ داخلے پر پابندی، بحث 18 جنوری کو ہوگی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لیبر کے رکنِ پارلیمان پال فلِن 18 جنوری کو ویسٹ منٹسر ہال میں بحث کا آغاز کریں گے

برطانوی دارالعوام کے ارکان ایک عوامی درخواست پر بحث کرنے والے ہیں کہ آیا امریکہ میں صدراتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو برطانیہ داخل ہونے دینا چاہیے یا نہیں۔

الشباب کی پراپیگنڈا ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ مسلمانوں پر پابندی کے موقف پر قائم

’وہ باتھ روم گئی تھی، کتنی گندی بات ہے‘

تقریباً پانچ لاکھ 68 ہزار افراد نے اس درخواست کی حمایت کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمانوں کے امریکہ داخلے پر پابندی سے متعلق بیان کی وجہ سے برطانیہ آنے سے روک دیا جائے۔

لیبر کے رکنِ پارلیمان پال فلِن 18 جنوری کو ویسٹ منٹسر ہال میں بحث کا آغاز کریں گے۔

وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی مسٹر ٹرمپ کی مذمت کی ہے لیکن کہا ہے کہ انھیں برطانیہ آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ خیال رہے کہ مسٹر ٹرمپ کے برطانیہ میں کاروباری مفادات بھی ہیں۔

عوامی درخواست سے متعلق دارالعوام کی کمیٹی نے منگل کو اس معاملے پر بحث کرانے کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی مسٹر ٹرمپ کی مذمت کی ہے لیکن کہا کہ انھیں برطانیہ آنے کی اجازت ہونی چاہیے

موجودہ قوانین کے مطابق اگرکسی درخواست پر ایک لاکھ سے زیادہ افراد کے دستخط ہو جائیں تو اراکینِ پارلیمان کو اس پر پارلمینٹ میں بحث کرنا پڑتی ہے۔

یہ بحث دارالعوام کے ثانوی چیمبر میں ہوگی نہ کہ فل چیمبر میں اور بحث کے آخر میں ووٹنگ نہیں ہوگی۔

لیبر کی رکن ہیلن جونز نے جو کمیٹی کی سرابرہ ہیں کہا کہ اس بحث میں مختلف طرح کے خیالات کا اظہار ہوگا۔ انھوں نے کہا ’اس طرح کی درخواستوں پر بحث کرا کے کمیٹی یہ نہیں کہہ رہی کہ آیا حکومت کو ڈونلڈ ٹرمپ کو برطانیہ آنے دینا چاہیے یا نہیں۔‘

لیکن لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے ٹِم فیرن نے مسٹر ٹرمپ کے لیے پارلیمانی وقت لگانے کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ انھوں نے ٹویٹ کیا ’ٹرمپ بہت ہی امیر ہیں جن کے خیالات سے لوگوں کو آزار ہوتا ہے۔ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم بجائے ان کے این ایچ ایس میں عدم مساوات پر بحث کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سان برنارڈینو میں فائرنگ کے واقعات کے بعد مسلمانوں سے متعلق ٹرمپ کے بیان کے بعد انھیں تنقید کا سامنا ہے

رائے عامہ کے کچھ جائزوں کے مطابق مسٹر ٹرمپ ری پبلیکن پارٹی کی جانب سے امریکی صدراتی نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ میں فی الحال آگے ہیں۔ لیکن سان برنارڈینو میں فائرنگ کے واقعات کے بعد مسلمانوں سے متعلق ان کے بیان کے بعد جسے ناقد تکلیف دہ اور اشتعال انگیز کہتے ہیں، انھیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔

برطانیہ کی وزیرِ داخلہ ٹیریزا مے جو کسی شخص کے برطانیہ آنے پر پابندی کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں کہتی ہیں کہ وہ اس مسئلے پر کوئی بات نہیں کر سکتی۔ ایک اور درخواست جو ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانیہ آنے کے خلاف درخواست کو غیر عقلی قرار دیتی ہے اس پر تقریباً 40 ہزار افراد نے دستخط کیے ہیں، اس پر بھی بحث ہوگی۔

اسی بارے میں