کار ساز کمپنی ووکس ویگن کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ووکس ویگن مستقبل میں ’ریئل لائف‘ تجزیہ کرے گا جسے غیر جانبدارانہ طور پر بھی چیک کروایا جائے گا

امریکی محکمہ انصاف نے جرمنی کی کار ساز کمپنی ووکس ویگن کے خلاف مضرِصحت گیسوں کے اخراج کا مقدمہ درج کروایا ہے۔

جرمنی کے اس کارساز کمپنی پر الزام ہے کہ اُس نے لاکھوں کاروں میں ایسا آلہ نصب کیا جو گاڑی کے اخراج میں گھپلا کر کے اُسے 40 گنا کم دکھاتا ہے لیکن درحقیقت گاڑی سڑک پر مقررہ حد سے زیادہ دھواں خارج کرتی تھی۔

ووکس ویگن کو سکینڈل کے بعد خسارے کا سامنا

’ووکس ویگن سکینڈل سے جرمنی کی ساکھ متاثر نہیں ہوگی‘

گذشتہ ستمبر میں امریکی حکام کو معلوم ہوا تھا کہ ووکس ویگن کی ڈیزل سے چلنے والی بعض گاڑیوں میں ایسا آلہ نصب کیا گیا ہے جو گاڑی کے اخراج میں گھپلا کر کے اسے کم دکھاتا ہے۔ ووکس ویگن نے دھوکے دینے والے اس سافٹ ویئر کو نصب کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

اس سکینڈل کی وجہ سے دنیا بھر میں ووکس ویگن کی فروخت متاثر ہوئی ہیں۔

مقدمہ امریکی محکمہ برائے ماحولیاتی تحفظ (ای پی اے) کی جانب سے پیر کے روز ریاست مشی گن کی ایک وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا۔

مقدمے کے مطابق ’شکایت کنندہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ تقریباً چھ لاکھ ڈیزل انجن والی گاڑیوں میں غیر قانونی آلات نصب کیے گئے جنھوں نے ان کے مضرِ صحت گیسوں کے اخراج پر قابو پانے کے نظام کو نقصان پہنچایا اور یہ اخراج ای پی اے کے معیار کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے مضرِ صحت فضائی آلودگی کا باعث بنا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ GettyImages
Image caption محکمے کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ’ووکس ویگن کو کٹہرہ انصاف میں لانے کی جانب‘ صرف پہلا قدم تھا

درخواست میں کہا گیا کہ ووکس ویگن نے صاف ہوا کے قوانین کی ’خلاف ورزی‘ کرتے ہوئے ایسی کاریں فروخت کیں جو اُس ساخت سے بالکل مختلف تھیں جن کی اصل میں ای پی اے کی جانب سے فروخت کی منظوری دی گئی تھی۔

محکمے کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ’ووکس ویگن کو کٹہرہ انصاف میں لانے کی جانب‘ صرف پہلا قدم تھا۔

کار ساز ادارے کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کیے جائیں گے جبکہ اس متاثرہ کار استمال کرنے والے صارفین بھی کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ووکس ویگن کا کہنا ہے کہ اس سکینڈل کی اندرونی سطح پر بھی تحقیقات کررہے ہیں اور اُن کے مطابق ’تحقیقات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔‘

اس سکینڈل سے ووکس ویگن کو شدید مالی نقصان ہوا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اپنی ساکھ کو بحال کر کے دنیا بھر میں دوبارہ سے لاکھوں کی تعداد میں کاروں کی فروخت شروع کردے گا۔

کمپنی نے اس سکینڈل کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے چھ ارب 70 کروڑ یورو الگ کرلیے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اکتوبر کے اواخر میں کمپنی کو 15 سال کے دوران پہلی سہ ماہی میں ڈھائی ارب یورو کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں اس آلے کی وجہ سے متاثر ہونے والی گاڑیوں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔

اسی بارے میں