قطر نے بھی ایران سے سفارتی تعلقات توڑ دیے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty AFP
Image caption تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کے بعد کئی سعودی اتحادیوں نے ایران سے سفارتی تعلقات توڑ دیے ہیں

مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب کے ایک اور اتحادی ملک قطر نے بھی ایران سے سفارتی تعلقات توڑتے ہوئے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں تازہ کشیدگی سعودی حکام کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت دیے جانے پر پیدا ہوئی ہے۔

ایران و سعودی عرب ’خطرناک ترین موڑ‘ پر

سعودی اتحادیوں کا ایران کے خلاف سفارتی محاذ

ایران اور سعودی عرب کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ

اس سے قبل کویت، بحرین، سوڈان اور جبوتی ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کرچکے ہیں۔

ادھر ایران نے بھی سعودی عرب سے اپنے سفارتکار واپس بلالیے ہیں۔

دوسری جانب ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عراق نے ثالثی کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عراقی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی کو طول دیا جاتا رہا تو پورا خطہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے

عراقی وزیرخارجہ ابراہیم جعفری کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی کو طول دیا جاتا رہا تو پورا خطہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ عراق ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے اور اس کی سرحدی ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ ملتی ہیں۔

بدھ کو عراقی وزیرخارجہ نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ابراہیم جعفری نے شیعہ عالم شیخ نمر النمر کی سزائے موت کو ’جرم‘ قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود عراق ’ایران اور سعودی عرب کے درمیان تکلیف دہ کشیدگی کم کرنے‘ میں مدد کر سکتا ہے۔

عراقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا: ’ہم ابتدائی لمحات ہی سے کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہیں، تاکہ کسی ایسے سانحے سے بچا جا سکے جس سے پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق کے دارلحکومت بغداد میں شیخ نمر النمر کی سزائے موت کے خلاف احتجاج کیا گیا

خیال رہے کہ عراق کی شیعہ قیادت نے ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں پر قابض شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے نبردآزما ہونے کے لیے ایران کی مدد پر انحصار کیا ہوا ہے۔

تاہم وہ سعودی عرب کے ساتھ بھی بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں جبکہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے 25 سال کے بعد بغداد میں اپنا بھیجا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے مغربی صوبے قطیف میں شیعہ عالم شیخ نمر النمر اور تین شیعہ افراد کو دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت دی گئی تھی جبکہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے 43 سنی جنگجوؤں کو بھی موت کی سزا دی گئی تھی۔

اسی بارے میں