ایران اور سعودی عرب کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption جان کربی نے کہا کہ امریکی وزیرِ خارجہ اس سلسلے میں خطے کے دیگر رہنماؤں سے بھی بات کریں گے

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایران اور سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں۔

ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں تازہ کشیدگی سعودی حکام کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت دیے جانے پر پیدا ہوئی ہے۔

سعودی عرب اور ایران تحمل سے کام لیں: ترکی

سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کردیے

شیخ نمر النمر کون تھے؟

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی کے مطابق جان کیری نے منگل کو ایرانی اور سعودی وزرائے خارجہ کے علاوہ سعودی ولی عہد سے بھی ٹیلیفون پر بات کی۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جان کربی کا کہنا تھا کہ اس گفتگو کا محور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے اور حالات کو پرسکون رکھنے کی کوشش تھا۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اور سعودی عرب اس معاملے کو دوطرفہ بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں تازہ کشیدگی ممتاز سعودی شیعہ عالم شیخ النمر کو سزائے موت دیے جانے پر پیدا ہوئی ہے

محکمۂ خارجہ کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اگرچہ اس تنازع کی اہمیت سے انکار نہیں کر رہا لیکن اس خطے میں دیگر اہم مسائل بھی ہیں جنھیں مسلسل توجہ درکار ہے جن میں شام میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانا بھی شامل ہے۔

جان کربی نے کہا کہ امریکی وزیرِ خارجہ اس سلسلے میں خطے کے دیگر رہنماؤں سے بھی بات کریں گے۔

خیال رہے کہ سعودی شیعہ عالم شیخ النمر کی سزائے موت کے خلاف ایران میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور تہران میں مظاہرین نے سعودی سفارتخانے پر دھاوا بول کر اسے آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔

ایرانی صدر کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کے باوجود سعودی حکام نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

سعودی عرب کے اس علان کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں سعودی عرب کے تین حلیفوں بحرین، کویت اور سوڈان نے بھی ایران سے سفارتی تعلقات توڑ لیے ہیں

ان کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے تعلقات محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ تمام فضائی سفری روابط اور تجارتی تعلقات بھی ختم کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سعودی شہریوں کے ایران جانے پر بھی پابندی عائد کر دی جائے گی۔

اسی بارے میں