سلامتی کونسل میں شمالی کوریا کے خلاف فوری اقدامات کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption جان کیری کا کہنا تھا: ’ہم شمالی کوریا کو جوہری ریاست تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی ایسا کریں گے‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کی جانب سے ہائیڈروجن بم کے تجربے کے بعد فوری طور پر اس کے خلاف نئے اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی جانب سے طلب کیا گیا تھا۔

شمالی کوریا کے’ہائیڈروجن بم‘ کےتجربے پر شکوک و شبہات

شمالی کوریا پر امریکہ کی مزید پابندیاں

شمالی کوریا کا ہائیڈروجن بم بنانے کا دعویٰ

اس اجلاس میں سلامتی کونسل نے اس تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بین الاقوامی امن کو خطرہ اور سکیورٹی کے لیے خدشہ‘ قرار دیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شمالی کوریا کی جانب سے سنہ 2006 سے یہ چوتھا جوہری تجربہ ہے اور اگر حالیہ تجربے کی تصدیق ہوگئی تو یہ ہائیڈروجن بم کا پہلا تجربہ ہوگا۔

اس سے امریکہ نے جوہری ماہرین کے ساتھ شمالی کوریا کے دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھائے تھے کہ آیا یہ دھماکہ واقعی میں اتنا شدید تھا جو کہ ہائیڈروجن بم کے نتیجے میں ہو سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی تجزیات شمالی کوریا کے ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے کے دعوے سے مماثلت نہیں رکھتے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ایک رات میں ایسا کچھ نہیں ہوا کہ ہمارا شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت کے بارے میں نکتہ نظر تبدیل ہوجائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سلامتی کونسل نے اس تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بین الاقوامی امن کو خطرہ ‘ قرار دیا ہے۔

یوراگوائے کے اقوام متحدہ میں سفیر اور کونسل کے موجودہ صدر البیو روسولی کا کہنا تھا کہ ’ممبران۔۔۔ کی جانب سے یاد کیا گیا کہ (شمالی کوریا کے) ایک اور جوہری تجربے کی صورت میں واضح اقدامات کرنے کا پختہ عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔‘

’اس عزم اور خلاف ورزی کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، (وہ) سلامتی کونسل کی نئی قرارداد میں ایسے اقدامات پر کام فوری طور پر کام شروع کر دیں گے۔‘

اقوام متحدہ میں جاپان کے سفیر موٹوہیڈے یوشکاوا نے اقوام متحدہ کی مضبوط نئی قرارداد کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر سلامتی کونسل یہ اقدامات نہیں کرتی ہے تو اس کے اختیار اور ساکھ پر سوالیہ نشان ہوگا۔‘

تاہم انھوں نے اور دیگر ممبران نے یہ ظاہر نہیں کیا یہ اقدامات کیا ہوں گے اور یہ قرارداد کب پیش کی جائے گی۔

روس کے اقوام متحدہ میں سفیر کا کہنا ہے کہ ایسا کہنا ’بے جا‘ ہو گا کہ ماسکو مزید پابندیوں کی حمایت کرتا ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے سنہ 2006، 2009 اور 2013 میں جوہری تجربات کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں عائد کی گئی تھیں جبکہ 20 ادارے اور 12 افراد اقوام متحدہ کی جانب سے بلیک لسٹ کیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی کوریا پر چھوٹے اسلحے سے لے کر جوہری ہتھیار کے پھیلاؤ کے الزامات ہیں

اگر شمالی کوریا کے دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس نے 2006 کے بعد سے جوہری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

تاہم جوہری امور کے ماہرین نے شمالی کوریا کے دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا یہ دھماکہ واقعی میں اتنا شدید تھا جو کہ ہائیڈروجن بم کے نتیجے میں ہو سکتا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے جوہری تجربے کے بارے میں شک و شبہات کا اظہار اس وقت کیا گیا جب مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے پنجی ری نامی مقام سے 50 کلومیٹر کے فاصلے 5.1 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

شمالی کوریا ماضی میں اسی مقام پر زیرزمین جوہری تجربات کر چکا ہے۔

بعدازاں شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی پر یہ اعلان کیا گیا کہ ملک میں 6 جنوری 2016 کی صبح دس بجے پہلے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں