سویڈن میں پدری چھٹیاں ضروری کیوں؟

جہاں بہت سے ممالک بچوں کی پیدائش پر والد کو چھٹی دینے کے معاملے پر غور کر رہے ہیں وہیں یورپی ملک سویڈن میں جہاں بچے کی پیدائش پر والد کو چھٹی سنہ 1974 سے دی جا رہی ہے وہاں اب والد کو پدری چھٹی کی مدت تین ماہ کر دی گی۔

اپنے بیٹے ایلٹن کو ایک ریستوران میں بچوں کی کرسی پر بیٹھاتے ہوئے فیڈرک کیسروک نے کہا کہ ’سردیوں میں 20 منٹس لگتے ہیں بچوں کو گرم کپڑے پہناتے ہوئے۔‘

اُن ہی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک اور والد ریکرڈ بارتھن کہتے ہیں کہ ’یہ سال کا برا ترین وقت ہوتا ہے۔‘

یہ دونوں ہی والد اپنے بچوں کے ساتھ سٹاک ہوم کے مضافات میں ایک ریستوران میں کافی اور دارچینی سے بنے بن کا ناشتہ کر رہے ہیں اور اپنے بچوں کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔

سویڈن میں آپ کو پارکس میں ایسے کئی والد ملیں گے جو اپنے چھوٹے بچوں کو پریم میں بیٹھا کر گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

سنہ 1974 سے سویڈن میں والدین کو بچوں کی پیدائش کے بعد چھٹی دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے خاندان میں آنے والے بچے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکیں۔

صنف کے موضوع پر تحقیق کرنے والے پروفیسر روجر کلنتھ کا کہنا ہے کہ ’یہ یہاں کی مضبوط ثقافت ہے اور اس کے لیے سنہ 1974 میں تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر ووٹ دیا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کی جانب سے مرد اور عورت کو والدین کا درجہ دیا گیا ہے اور کسی ایک صنف پر ہی تمام ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے۔‘

سویڈن میں قانون منظور ہونے کے بعد والدین کو بچے کی پیدائش پر چھ ماہ کی چھٹی ملتی تھی اور والد کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ اپنی تین ماہ کی چھٹی کو بیگم کے نام پر منتقل کر دے۔ بہت سے والد ایسا ہی کرتے تھے لیکن دو دہائیوں کے بعد پتہ چلا کہ نوے فیصد چھٹیاں ماں نے ہی استعمال کیں۔

اُس کے بعد سنہ 1995 میں ’والد کا کوٹہ‘ متعارف کروایا گیا۔جس میں والد کو 30 دن کی چھٹی ملنا شروع ہوئی۔ سنہ 2002 میں والد کو ملنے والی چھٹی کو 30 سے بڑھا کر 60 دن کر دیا گیا۔

جنوری سنہ 2016 سے والد کو ملنے والی پدری چھٹی کا دورانیہ بڑھا کر 90 دن کر دیا گیا۔

اب سویڈئش والدین کو بچوں کی پیدائش پر مجموعی طور 16 مہینے کی چھٹی ملتی ہے۔

ریستوران میں بیٹھے دونوں والد اپنے بچوں کی دیکھ بہال کے لیے کم سے کم چار مہینے چھٹی کریں گے۔

فیس بک پر کئی ایسے گروپس ہیں جو ان مخصوص چھٹیوں کے دوران والد کی مدد کرتے ہیں۔ جیسے بچے جب کھیل میں مصروف ہوں تو وہ اکٹھے کافی پی سکیں یا کھانا کھا سکیں اور ایک دوسرے تجربات بیان کر سکیں۔

فیڈرک کی اہلیہ کے خیال میں اُن کا بیٹا ایلٹن اپنے والد کے ساتھ زیادہ مانوس ہو گیا ہے۔

’کبھی کبھی میں یہ دیکھ کر تھوڑی مایوس ہوتی ہوں کہ ایلٹن فیڈرک کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتا ہے۔ دونوں زیادہ وقت گھر پر اکٹھے ہوتے ہیں۔‘

خیالات بہت بدل گئے ہیں پہلے والد کو چھٹی تو ملتی تھی لیکن وہ زیادہ وقت گھر پر نہیں گزارنا چاہتے تھے لیکن اب والد چھٹی کو بچے کے ساتھ گزارتے ہوئے اچھا محسوس کرتے ہیں۔

سویڈن کے ایک فوٹو گرافر جوہن بیومین نے ’سویڈش والد‘ کے نام سے ایک تصاویر کتاب شائع کی ہے۔ اس کتاب میں 45 بچوں کے والد کی تصاویر ہیں جو پدری چھٹی کے ایام میں اپنے بچوں کے ساتھ ہیں۔

جوہن کہتے ہیں کہ وہ اپنی تصاویر میں انھیں ’بہترین باپ‘ کے طور پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے لیکن وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ کتنی محنت کرتے ہیں۔

کیفے میں موجود دونوں بچوں کے والد کا کہنا ہے کہ انھیں سڑکوں پر اپنے بچے کو گھوماتے پھراتے کبھی بھی کوئی عجیب جملہ سننے کو نہیں ملا۔ بس بعض اوقات علاقے میں آنے والے سیاح کوئی عجیب جملہ کہتے ہوئے چلے جاتے ہیں جیسے ’ہم جنس پرست آیا‘

عالمی اقتصادی فورم کے مطابق دنیا میں صنفی امتیاز کی کم ترین شرح سویڈن میں ہے۔

فیڈرک کا کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں بچوں کی نیپی تبدیل کرنا اور انھیں صاف کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن اُن کے خیال میں امریکہ میں مقیم ان کا بھائی اپنے بچوں کے ساتھ بہت کم وقت گزارتا ہے اور اُس کے بچوں کے ساتھ اُس کا تعلق بھی تھوڑا انجان سا ہے۔

فیڈرک کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی ملازمت پر تو واپس جانا ہی ہے لیکن وہ اس وقت سے محضوظ ہو رہے ہیں جو دوبارہ کبھی نہیں آئے گا۔

سویڈن میں یہ اصلاحات ہونے میں تقریباً 40 سال لگے، جس کے بعد سویڈن میں والدین کو برابر کی سطح پر دیکھا جا رہا ہے۔

گو کہ خواتین زیادہ تر دن میں کچھ گھنٹے ہی کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں لیکن اگر یہ رجحان آئندہ چند برسوں تک جاری رہتا ہے تو سنہ 2035 تک بچوں کی پیدائش پر یہ چھٹی دونوں میں آدھی آدھی تقسیم ہو سکے گی۔

اسی بارے میں