’ایرانی سفارت خانے پر بمباری‘، سعودی عرب کی تردید

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے سفارتخانے کے قریب کوئی کارروائی نہیں کی

سعودی عرب نے ایران کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ اس کی قیادت میں قائم اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صعنا میں ایران کے سفارت خانے پر بمباری کی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے ایک راکٹ حملے میں ’ایک گارڈ شدید زخمی‘ ہوا ہے، اور وہ اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ اٹھائے گا۔

ایران و سعودی عرب ’خطرناک ترین موڑ‘ پر

عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ: ویڈیو رپورٹ

’سعودی عرب نے سفارت خانے پر بمباری کی ہے‘

دوسری جانب سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے سفارتخانے کے قریب کوئی کارروائی نہیں کی۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے الزامات ’غلط ہیں اور سفارتخانے کے قریب یا اس کے نواح میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔‘

بیان میں کہا گیا کہ اس کی تفتیش سے ’بھی تصدیق ہوتی ہے کہ سفارتخانے کی عمارت محفوظ ہے اور اس کو نقصان نہیں پہنچا۔‘

اس سے قبل عینی شاہدین اور رہائیشیوں کا کہنا تھا کہ فضائی حملوں میں سفارتخانے کو نقصان نہیں پہنچا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری نے سعودی عرب پر ’سفارتی عملے کو تحفظ فراہم کرنے والے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے

ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہین کا کہنا ہے کہ ’صنعا میں سعودی عرب کی فضائی کارروائی کے دوران، ایک راکٹ ہمارے سفارتخانے کے قریب گرا اور بدقسمتی سے ہمارا ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔‘

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ایرانی سفارتخانہ مکمل طور پر فعال تھا کہ نہیں لیکن گذشتہ برس متعدد ممالک نے صعنا میں اپنے سفارت خانے خالی کر دیے تھے اور انھیں ساحلی شہر عدن میں منتقل کر دیا تھا۔

یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔

سعودی عرب میں شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو موت کی سزا دینے کے بعد سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں جس میں سعودی عرب اور اس کے دیگر اتحادیوں سے ایران سے اپنے سفارت تعلقات ختم کر دیے ہیں۔

اسی بارے میں