مصر کے سیاحتی مقام غردقہ میں حملہ، تین غیرملکی زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فائرنگ کے واقعے میں دو غیرملکی سیاحوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں

مصر کے سیاحتی مقام غردقہ میں حملہ آوروں نے ایک ہوٹل میں گھس پر تین غیرملکی سیاحوں کو زخمی کر دیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

زخمی ہونے والوں پر چاقو سے وار کیے گئے تاہم ان کو معمولی نوعیت کے زخمی آئے ہیں۔ ان کی قومیتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔

’شدت پسندی، خطے کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ہے‘

’سینا سے دولتِ اسلامیہ کے خاتمے تک جنگ رہے گی‘

یہ واقعہ بیلا وسٹا نامی ہوٹل میں پیش آیا ہے جہاں غیرملکی سیاح بھی مقیم ہیں۔

مصری حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حملہ آور سیاحوں کو اغوا کرنا چاہتے تھے اور ایک حملہ آور نے خودکش جیکٹ بھی پہن رکھی تھی۔

قاہرہ میں بی بی سی نامہ نگار صلی نبیل کا کہنا ہے کہ غردقہ میں تمام سڑکوں پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور پولیس مزید ممکنہ حملہ آوروں کی تلاش کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غردقہ بحیرہ احمر کے کنارے واقع معروف سیاحتی مقام ہے (فائل فوٹو)

برطانوی دفترخارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی ’ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کر رہے ہیں۔‘

ترجمان نے حملے میں کسی برطانوی شہری کے متاثر ہونے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

غردقہ بحیرہ احمر کے کنارے واقع معروف سیاحتی مقام ہے اور یہاں غیرملکی سیاحوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آور سمندر کے راستے آئے تھے۔

خیال رہے کہ مصر جزیرہ نما سینا میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور دیگر شدت پسندوں سے برسرپیکار ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو اہرام مصر کے قریب ایک ہوٹل کی بس پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق اس حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ اس نے ’یہودیوں کی بس‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مصری حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حملہ آور سیاحوں کو اغوا کرنا چاہتے تھے

اطلاعات کے مطابق قاہرہ کے قریب واقع اس ہوٹل میں عرب خطے سے تعلق رکھنے والے یہودی قیام پذیر تھے۔

خیال رہے کہ مصر کے علاقے سینا میں بحیرہ احمر کے کنارے واقع ایک اور سیاحتی مقام شرم الشیخ واقع ہے۔

گذشتہ برس 31 نومبر کو شرم الشیخ سے روس کی ایک پرواز اڑان بھرنے کے بعد حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس میں 224 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کی ذمہ داری بھی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

طیارہ حارثے کے بعد برطانیہ اور روس سمیت دیگر یورپی ممالک نے مصر کے لیے اپنی پروازیں سکیورٹی خدشات کی بنا پر معطل کر دی تھیں۔

اسی برس نومبر میں ہی شمالی سینا کے ایک ہوٹل پر دو خود کش حملہ آوروں اور بندوق بردار کے حملے میں کم سے کم چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں