بندر کی سیلفی کا حقدار کون؟

Image caption یہ مادہ بندر کی سیلفی تھی،جس کا نام ایلا ہے

بندر کی سیلفی کے کاپی رائٹس کے معاملے پر مونماؤتھ شائر سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر کو سان فرانسسکو کی عدالت کے حکم نامے کے بعد کیس سے چھٹکارا مل گیا ہے۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن یہ بحث کر رہے ہیں کہ سنہ 2011 میں لی گئی بندر کی سیلفی کی فروخت کا سارا فائدہ بندر کو ملنا چاہیے۔

بندر نے ساتھی بندر کو کیسے دوبارہ زندہ کیا؟

گدھوں کے لیےایوارڈ

تاہم سان فرانسسکو کی کورٹ اس سے اتفاق نہیں کرتی اور اس نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ کاپی رائٹ کا تحفظ جانوروں پر لاگو نہیں ہوتا۔

بندر کی تصویر لینے والے ڈیوڈ سلیٹر سمجھتے ہیں کہ وہ تاریخ کے پہلے شخص ہیں جن پر کسی جانور کی جانب سے کیس کیا گیا ہے۔

یہ کیس ایک گروہ کی جانب سے کیا گیا جو جانوروں کے ساتھ متعصبانہ رویے کے خلاف کام کرتا ہے۔

پی ای ٹی اے نامی یہ گروہ دعویٰ کرتا ہے کہ انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والا بندر ہی تصویر کا اصل مالک ہے۔

50 سالہ ڈیوڈ سلیٹر کہتے ہیں کہ یہ مادہ بندر کی تصویر تھی، جس کا نام ایلا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Wildlife PersonalitiesDavid J Slater
Image caption سلیٹر کا کہنا ہے کہ انھوں نے لوگوں کو جانوروں کے حقوق کے بارے میں سوچنے کا موقع دیا ہے

ہوا یہ تھا کہ سلیٹر نے کمیرے کو بندر کے سامنے سیٹ کر کے چھوڑ دیا تھا تاکہ بندر آئے اور اس کے ساتھ کھیلے۔

سلیٹر کہتے ہیں کہ یہ کیس ان کے لیے ایک ’لمبی داستان‘ بن گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ پی ای ٹی اے کا جانوروں کے حقوق سے زیادہ پیسے بنانے اور شہرت حاصل کرنے کا ادارہ ہے۔

سلیٹرکا موقف ہے کہ اس گروہ نے لوگوں کی جانب سے دی جانے والی خیرات کو کیس پر لگایا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کم ازکم اس نے لوگوں کو بندر کے بارے میں، اس کے حالات، جانوروں کے حقوق اور اس بارے میں سوچنے کا موقع دیا ہے کہ جانور کتنے ذہین ہوتے ہیں۔‘

دوسری جانب پی ای ٹی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کیس میں ناکامی کے باوجود یہ جانوروں کے بنیادی حقوق کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اسی بارے میں