’ایران کو خطے کے شیعوں کے لیے آواز اٹھانے کا حق نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر بلایا گیا تھا

عرب لیگ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران کی جانب سے ’عرب معاملات میں مداخلت‘ کی مذمت کی ہے۔

یہ فیصلہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اس ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان تنازع کی وجہ سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بلایا گیا تھا۔

ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی: خصوصی ضمیمہ

دل سے پہلے آنکھیں کھولیے

ایران و سعودی عرب ’خطرناک ترین موڑ‘ پر

اتوار کو منعقد ہونے والے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں ایران میں سعودی سفارتی عمارات پر حملوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا ہے کہ ایران ان کی حفاظت نہ کر کے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔

اس اجلاس کے مندوبین کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام سعودی سفارت خانے کو تحفظ دینے میں ناکام رہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی سفارتخانے پر حملہ ’سکیورٹی فورسز کی ناک کے نیچے ہوا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایران خطے اپنی بالادستی قائم کرنے اور عرب ممالک کے داخلی امور میں دخل اندازی کے لیے فرقہ واریت کا کارڈ استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتا تاہم میں ہم نہ تو کوئی تنازع چاہتے ہیں اور نہ ہی کوئی جنگ۔‘

اجلاس کے شرکا میں سے لبنان کے سوا عرب لیگ کے باقی رکن ممالک نے اس بیان کی حمایت کی۔

لبنان کے وزیرِ خارجہ جبران باسل نے کہا کہ ان کا ملک اس بیان کو مسترد کرتا ہے کہ کیونکہ اس میں بحرین میں مبینہ مداخلت پر شیعہ تنظیم حزب اللہ کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے اپنے طور طریقے نہ بدلے تو عرب اقوام اس کا مقابلہ کریں گی۔

عرب لیگ کے سربراہ نبیل العرابی کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کے وزرائے خارجہ آئندہ دو ماہ کے اندر منعقد ہونے والے اجلاسوں میں ان اقدامات پر غور کریں گے جو ایران کے خلاف کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایسے اقدامات کے لیے کوئی وقت معین نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے اپنے طور طریقے نہ بدلے تو عرب اقوام اس کا مقابلہ کریں گی

عادل الجبیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایران کو خطے کی شیعہ اقلیت کے بارے میں آواز بلند کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ یہ شیعہ افراد بھی عرب شہری ہی ہیں۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ ایران میں سعودی عمارتوں پر حملے ’ایک سعودی شہری( شیخ النمر) کی سزا کی وجہ سے نہیں بلکہ ایرانی حکام کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے کیے گئے۔‘

خیال رہے کہ سعودی عرب میں شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو موت کی سزا دینے کے بعد سے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔

شیخ النمر کی سزائے موت کے خلاف ایران میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور مظاہروں کے دوران تہران اور مشہد میں سعودی سفارتخانے اور قونصل خانے کی عمارتوں کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔

اس کے بعد سعودی عرب اور خطے میں اس کے اتحادیوں بحرین، کویت اور قطر نے ایران سے اپنے سفارت تعلقات ختم کر دیے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات نے تعلقات محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں