تین سال بعد نئی مصری پارلیمان کا پہلا اجلاس

Image caption اجلاس میں اس وقت خلل پڑ گیا جب ایک رکن اسمبلی نے دھواں دھار تقریر شروع کر دی

تین سال بعد مصر کی پارلیمان نے ایک مرتبہ پھر کام کرنا شروع کیا اور اس کے پہلے اجلاس کے موقعے پر پارلیمان کے عمارت صدر عبدالفتح السیسی کے حامیوں سے کچھا کچھ بھر گئی۔

اسلام پسند ارکان اسمبلی کی اکثریت پر مشتمل پارلیمان کو سنہ 2012 میں برطرف کر دیا گیا تھا۔

اگلے برس صدر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون کی مخالفت میں زبردست عوامی مظاہروں کے بعد جنرل السیسی نے ان کی حکومت کو اقتدار سے باہر کر دیا تھا۔

پارلیمان کا اجلاس اتنے زیادہ عرصے کے بعد شروع ہوا ہے کہ اب اسے پندرہ دن کے اندر اندر 300 سے زائد نئے قوانین کی منظوری دینا ہے۔

نو منتخب ارکان اسمبلی کے پہلے اجلاس کے موقعے پر ارکان نے حلف اٹھائے جس کے بعد اب انھیں سپیکر اور دو ڈپٹی سپیکروں کا انتخاب کرنا ہے۔

مصری پارلیمان 568 ارکان پر مشتمل ہے اس میں صدر السیسی کے حامی اتحاد کو برتری حاصل ہے۔

اگرچہ اتوار کے اجلاس میں محض رسمی کارروائی ہونا تھی لیکن اس میں اس وقت خلل پڑ گیا جب ایک رکن اسمبلی نے دھواں دھار تقریر شروع کر دی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر السیسی کے حامی رکن اسمبلی مرتدا منصور نے پہلے تو ارکان اسمبلی کے حلف کے سرکاری الفاظ پڑھنے سے انکار کر دیا اور پھر اس کے بعد حلف نامے کو تیز تیز پڑھ کرنا ختم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔

مرتدا منصور کو حلف کے ان فقروں سے اختلاف تھا جن میں سنہ 2011 میں سابق صدر حسنی مبارک کا تختہ الٹنے کو سراہا گیا ہے کیونکہ حکومت میں شامل کئی افراد اب سمجھتے ہیں کہ حسنی مبارک کو اقتدار سے نکالنا قدم نہیں تھا۔

اسی بارے میں