سیاسی رہنماؤں کی جائے پیدائش کتنی اہم

Image caption ٹیڈ کروز اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان شہریت کی بحث جاری ہے

کیا اگر آپ کینیڈا میں پیدا ہوئے ہوں تو تب بھی آپ امریکہ کے صدر بن سکتے ہیں؟ کیا دوسرے ممالک میں بھی صدر یا وزیرِ اعظم بننے کے لیے یہ اہم ہے کہ آپ کی جائے پیدائش کیا تھی؟

آج کل امریکہ میں یہ سوال بڑے زور و شور سے اٹھایا جا رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے کئی اہم ارکان یہ پوچھ رہے کہ کہ آیا ان کی جماعت کے متوقع صدراتی امیدوار ٹیڈ کروز امریکہ کے صدر بن سکتے ہیں جبکہ ان کی پیدائش کینیڈا کی ہے۔

اعتراض کرنے والوں کا موقف ہے کہ ٹیڈ کروز صدر نہیں بن سکتے کیونکہ ملک کا آئین کہتا ہے کہ صدر بننے کے لیے امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکہ کا ’ پیدائشی شہری‘ ہو۔

ریپبلکن پارٹی کی صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آیا ریپبلکن پارٹی ایک ایسا امیدوار منتخب کرنے جا رہی ہے جو خود کو صدارت کا حقدار ثابت کرنے کے لیے ’ دو سال تک عدالتوں کے چکر لگاتا رہے۔‘

Image caption سابق امریکی صدر بِل کلنٹن کی بات غلط ثابت ہوئی تھی

اسی طرح سنہ 2008 میں پارٹی کی صدارتی دوڑ میں شامل ہونے والے امیدوار جان مکین کا کہنا تھا کہ وہ خود امریکہ سے باہر ایک امریکی فوجی اڈّے پر پیدا ہوئے تھے لیکن ٹیڈ کروز کی طرح ’غیر سرزمین‘ پر نہیں پیدا ہوئے تھے، اس لیے کروز صدارت کے امیدوار نہیں بن سکتے۔

دوسری جانب خود ٹیڈ کروز کا موقف یہ ہے کہ جائے پیدائش والا سوال ’ غیر ضروری بات‘ ہے کیونکہ ان کی والدہ امریکی شہری تھیں اور وہ خود چار سال کی عمر میں امریکہ آ گئے تھے۔

کروز کی بات درست دکھائی دیتی ہے کیونکہ امریکہ کے قانونی ماہرین کی اکثریت کہتی ہے کہ ’ پیدائشی شہری‘ ہونے کا مطلب یہی ہے کہ مذکورہ شخص امریکہ کے اندر پیدا ہوا ہو یا اس کے والدین میں سے کوئی ایک امریکی شہری ضرور ہو۔

یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے پروفیسر روجر سمتھ کے بقول اس سوال کے اٹھائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ آج تک امریکی سپریم کورٹ نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ آخر ’پیدائشی شہری‘ کا مطلب کیا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ’پیدائشی شہری‘ کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے؟

پیدائش

روجر سمتھ کے بقول دنیا کے کئی ممالک نے ’پیدائشی شہری‘ کی اصطلاح اور شرط امریکی آئین سے نقل کی ہے۔

مثلاً لاطینی امریکہ کے اکثر ممالک میں اصول یہ ہے کہ صدر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملک کا ’پیدائشی شہری‘ یا ’سکونتی شہری‘ ضرور ہو۔

Image caption اٹلی کے صدر سرجیو متاریلا 74 برس کے ہو چکے ہیں

لیکن یورپ کے اکثر ممالک میں یہ شرظ دکھائی نہیں دیتی اور یورپی ممالک میں یہ مسئلہ کبھی زیر بحث نہیں آتا کہ آیا صدارت یا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار ملک کا پیدائشی شہری ہے یا نہیں۔ مثلاً برطانیہ میں رکنِ اسمبلی بننے کی واحد شرط یہ ہے کہ آپ برطانیہ، آئرلینڈ یا دولتِ مشترکہ کے کسی بھی ملک کے شہری ہوں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ٹیڈ کروز اپنے کینیڈین پاسپورٹ سے دستبردار نہ بھی ہوتے تو وہ تب بھی برطانیہ کے وزیرِاعظم بن سکتے ہیں کیونکہ کینیڈا دولتِ مشترکہ میں شامل ہے۔

والد یا والدہ کی شہریت

سنہ 2014 میں جب زیمبیا کے صدر کا اچانک انتقال ہو گیا تو نائب صدر گائے سکاٹ ملک کے عبوری صدر تو بن گئے لیکن مستقل صدر نہیں بن سکے کیونکہ ان کے والد انگریز جبکہ والدہ سکاٹ لینڈ کی پیدائشی شہری تھیں۔

اس معاملے میں آئرلینڈ کے آئین میں زیادہ سختی نہیں پائی جاتی، لیکن اس کے باوجود جب سنہ 2012 میں سابق امریکی صدر بِل کلنٹن نے کہہ دیا تھا کہ وہ چاہیں تو آئر لینڈ کے صدر بن سکتے ہیں تو ان کی بات غلط ثابت ہوئی تھی کیونکہ آئرلیڈ کا آئین کہتا ہے کہ صدارت کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی پیدائش کے وقت آپ کے دادا دادی یا نانا نانی میں سے کوئی ایک آئرلینڈ کا شہری ضرور ہو۔

Image caption جولیا گیلارڈ آسٹریلیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں اور ان کی پیدائش ویلز کی ہے

جائے پیدائش اور والدین کی شہریت کے علاوہ کئی ممالک میں صدارت یا وزارتِ عظمیٰ کے امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ ان کی عمر کیا ہے یا ان کا مذہب کیا ہے۔ مثلاً امریکی آئین کی دیکھا دیکھی کئی ممالک میں یہ ضروری ہے کہ امیدوار کی کم از کم عمر 35 سال ضرور ہو۔

اسی طرح دنیا کے 30 ممالک میں آئینی طور پر ضروری ہے کہ صدر یا وزیرِ اعظم کا تعلق کسی خاص مذہب سے ہو۔ مثلاً پاکستان، ایران، اردن، ملائشیا، مراکش، سعوری عرب اور شام میں امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلمان ہو جبکہ تھائی لینڈ کے بادشاہ کے لیے ضروری ہے اس کا تعلق بدھ مت سے ہو۔

اسی بارے میں