یمن میں ہسپتال پر میزائل حملے میں چار ہلاک

Image caption ’جس وقت میزائل کا نشانہ بننے والا ہپستال ملیہ میٹ ہوا اس وقت فضا میں جنگی طیارے دیکھے گئے تھے‘

طبی امداد کی بین الاقوامی تنظیم ’ایم ایس ایف‘ کے مطابق یمن میں ایک ہسپتال پر میزائل کے حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ دس زخمی ہوئے ہیں۔

’میڈیسن سان فرنٹیئرز‘ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ یمن کے صوبہ سعدا میں ایک ایسے ہسپتال پر ہوا ہے جسے تنظیم کی امداد حاصل ہے۔ یاد رہے کہ یمن کا یہ علاقہ حوثی باغیوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

ایم ایس ایف کے مطابق یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ہسپتال پر گرنے والا میزائل فضا سے سعودی اتحادی میں حملہ کرنے والے کسی طیارے سے مارا گیا تھا یا زمین سے مارا گیا۔

تاہم امدای تنظیم کا کہنا تھا کہ جس وقت میزائل کا نشانہ بننے والا ہسپتال ملیہ میٹ ہوا اس وقت فضا میں جنگی طیارے دیکھے گئے تھے جن میں سے ایک کو قریب ہی زمین پر اترتے بھی دیکھا گیا تھا۔

زخمی ہونے والوں کی تفصیل بتاتے ہوئے امدادی تنظیم کا کہنا تھا کہ ان میں ہسپتال کے عملے کے تین افراد بھی شامل ہیں جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔

میزائل حملے کے مذمت کرتے ہوئے تنظیم کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ تین ماہ میں یہ تیسرا حادثہ ہے۔ ہر روز ہماری طبعی ٹیمیں اسی جد وجہد میں رہتی ہیں کہ کسی طرح صحت عامہ کے مراکز کا تقدس قائم رہے۔ ہم یمن کے تنازعے میں شامل تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ ہر قیمت پر مریضوں اور طبعی مراکز کا لحاظ رکھا جائے۔‘

یاد رہے کہ گزشتہ اکتوبر میں صوبہ سعدا میں ایم ایس ایف کا ایک اور ہسپتال تباہ ہو گیا تھا جبکہ صوبہ طیاز میں بھی ایک ہسپتال گزشتہ ماہ میزائل کا نشانہ بن گیا تھا۔

Image caption دارالحکومت صنعا حوثیوں کے کنٹرول میں ہے

ان دونوں حملوں کا الزام سعودی عرب کی قیادت میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کرنے والے اتحاد پر لگایا گیا تھا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے حوثی باغیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ دارالحکومت صنعا میں وہ اپنے مخالفین کو ہسپتالوں اور طبعی مراکز میں قید کرتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کا دعویٰ ہے کہ تنظیم نے گزشتہ موسم خزاں میں جب اعداد وشمار جمع کیے تو انھیں معلوم ہوا تھا کہ حوثیوں نے اپنے کم از کم 35 مخالفین کو ایسے مقامات پر قید کر رکھا تھا۔

تنظیم کا مزید کہنا تھا قانونی مدد فراہم کرنے والی ایک یمنی تنظیم نے بتایا ہے کہ وہ کم از کم ایسے 800 افراد کے حوالے سے کام کر رہی ہے جو لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ان لوگوں کا تعلق حوثیوں کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعت ’اصلاح‘ سے تھا۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ایسے افراد کے اغوا سے یمن میں سیاستدانوں، وکلاء اور صحافیوں میں شدید خوف پایا جاتا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی تھی۔

اسی بارے میں