سعودی عرب کی ’رو‌‌زا پارک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption نوال الہوساوی کا کہنا ہے کہ وہ ہر اس چیز کی نمائندگی کرتی ہیں جس کے سعودی عرب کے قدامت پسند لوگ مخالف ہیں

نوال الہوساوی ایک بیباک سیاہ فام سعودی خاتون ہیں جنھوں نے نہ صرف ایک سعودی مرد سے شادی کی بلکہ وہ ایک سند یافتہ پائلٹ بھی ہیں۔ وہ ہر اس چیز کی علامت ہیں جس کے لیے لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گالیاں کھاکر بھی وہ بے مزہ نہیں ہوتی ہیں اور ان کا محبت سے جواب دیتی ہیں۔

الہوساوی سوشل میڈیا پر سٹار جیسی بن چکی ہیں۔ ٹوئٹر پر ان کے 50 ہزار فالوورز ہیں جہاں وہ نسلی تنوع اور شادی میں مساوات کی بات کرتی ہیں۔ لیکن ان کی پوسٹس پڑھنے والے تمام افراد ان کے مداح نہیں ہیں۔

گذشتہ ماہ دسمبر میں ان کے خلاف نسلی لغویات کا ایک طوفان سا آ گیا تھا۔ اس طرح کی چیزوں سے الہوساوی کا ایک عرصے سے سابقہ رہا ہے۔ لوگوں نے انھیں گوریلا اور افریقہ کے قبائلیوں کی مسخ شدہ تصاویر ارسال کیں اور انھیں ایسے ہتک آمیز الفاظ سے یاد کیا جس کا مطلب ’غلام‘ ہوتا ہے۔

سعودی عرب کے قدرے بین الاقوامی شہر مکہ میں پیدا ہونے والی الہوساوی کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود کو اس وقت تک سیاہ فام نہیں سمجھا تھا جب تک کہ وہ امریکہ نہیں گئی تھیں جہاں انھیں کسٹم سے گزرنے کے لیے اپنی نسل کے بارے میں نشان لگانا تھا۔

جب وہ وہاں تھیں تو انھوں نے جہاز اڑانا سیکھا اور اب وہ سند یافتہ پائلٹ ہیں تاہم ابھی انھیں اپنے وطن میں جہاز اڑانے کی اجازت نہیں ہے۔

اس کے ساتھ انھوں نے شادی کے مسائل کو حل کرنے کی تعلیم بھی حاصل کی اور فی الحال وہ اسی پیشے سے وابستہ ہیں۔

انھوں نے ایک سفید فام امریکی سے شادی کی اور چند سال قبل سعودی عرب لوٹ آئیں اور اسی سے ان کی پریشانی کی ابتدا ہوتی ہے۔

سنہ 2013 میں سعودی عرب کے قومی دن کے موقعے سے منعقدہ ایک تقریب میں ایک خاتون نے ان کو ’غلام‘ جیسے الفاظ سے نشانہ بنایا۔ سعودی عرب میں نسل پرستی جرم ہے، اس لیے انھوں نے اس خاتون کو عدالت تک پہنچا دیا۔ لیکن اس سے بات کرنے کے بعد انھوں نے مقدمہ واپس لے لیا اور ان کا کہنا ہے کہ اب وہ اچھی دوست ہیں۔

یہ کہانی ملکی میڈیا میں شہ سرخیوں میں آ گئی اور الہوساوی اپنی بات رکھنے ٹی وی چینل پر آئیں۔ میڈیا نے انھیں سعودی عرب کی روزا پارک کے نام سے پکارا۔ خیال رہے کہ روزا پارک امریکہ میں شہری حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کی علامت ہیں۔

انھوں نے اس موقعے کو نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے غنیمت جانا اور ٹوئٹر پر اپنی مہم چھیڑ دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اداکار روبن ولیمز کی موت پر نوال الہوساوی کا پیغام

لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ جس پلیٹ فارم کا وہ نسل پرستی اور گھریلو تشدد کے خلاف استعمال کر رہی تھیں اسی پر ان کے خلاف نفرت انگیز تحریریں آنے لگیں۔ اور ان کے ناقدوں کے لیے ان کا رنگ، ان کی جنس، ان کی بیباک طبع اور دوسری نسل میں شادی سبھی غصے کا سبب بن گئیں۔ ان کے خیال سے ان کے پیچھے سعودی عرب میں انتہائی قدامت پسند لوگوں کا ہاتھ ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’انھیں، شادی، مساوات اور اتحاد کے بارے میں ہماری ٹویٹس پسند نہیں آئیں۔ انھوں نے میرے شوہر اور بچوں کی تصاویر پوسٹ کیں اور لوگوں سے انھیں ری ٹویٹ کرنے کی اپیل کی۔ یہ سب بہت افسوس ناک تھا۔‘

الہوساوی کو اس بات کا علم ہے کہ انھیں کیوں نشانہ بنایا گیا: ’میں ہر اس چیز کی نمائندگی کرتی ہوں جن کے وہ مخالف ہیں۔ میں سعودی شہری ہوں جس نے ایک غیر ملکی سے شادی کی ہے۔ وہ امریکہ مخالف ہیں۔ میرا شوہر سفید فام ہے جبکہ میں سیاہ فام۔ وہ بین النسل شادی کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو ملازمت نہیں کرنی چاہیے۔ جہاں خواتین کو کار چلانے کی اجازت نہ ہو وہاں میرا پائلٹ ہونا ان کے لیے بالکل قبول نہیں۔ اور انھیں یہ بھی پسند نہیں کہ میری ٹویٹس کی اتنی بازگشت ہو۔‘

الہوساوی نے گالیوں سے بھرے پیغامات کا ایک مجموعہ وزارت داخلہ کے پاس بھیجا ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ لیکن ان سب کاپتہ چلانا مشکل ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر غلط نام کے ساتھ پوسٹ کرتے ہیں۔ اور اسی لیے تاخیر ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا: ’اس دوران میں نے منڈیلا، ایم ایل کے اور گاندھی سے بہت کچھ سیکھا کہ آپ نفرت کاجواب نفرت سے نہ دیں۔ آپ ایک شمع روشن کریں اور مثبت رہیں۔ یہ چیز آپ کو مضبوط بناتی ہے۔‘

اسی بارے میں