کولون: ’مشتبہ افراد تارکینِ وطن ہیں‘

Image caption رالف جیگر کا کہنا ہے کہ ملک میں حال میں ہی میں آنے والے افراد اُن حملوں میں ملوث ہو سکتے ہیں

جرمنی کے شہر کولون میں سالِ نو کی تقریبات کے دوران خواتین پر حملوں کی تفتیش کرنے والے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد میں سے بیشتر تارکینِ وطن ہیں اور اُن کا تعلق شمالی افریقی اور عرب ممالک سے ہے۔

جرمنی کے اعلیٰ تفتیشی کار رالف جیگر کا کہنا ہے کہ ملک میں حال میں ہی میں آنے والے افراد اُن حملوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

’کولون میں تشدد اور جنسی حملے منصوبہ بندی کے تحت ہوئے‘

میرکل تارکینِ وطن کے لیے سخت قوانین کی خواہاں

جرمنی کا جرائم میں ملوث پناہ گرینوں کو ملک بدر کرنے پر غور

جرمنی میں سالِ نو کے جشن پر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایات

Image caption اِن حملوں کے بعد سنیچر کو جرمنی میں تارکینِ وطن مخالف مظاہرے کیے گئے جنھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا

خیال رہے کہ اِن حملوں کے بعد سنیچر کو جرمنی میں تارکینِ وطن مخالف مظاہرے کیے گئے جنھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے پانی کی توپ کا استعمال کیا۔

اتوار کو مغربی جرمنی کے وسط میں چھ پاکستانیوں اور ایک شامی باشندے پر حملوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

رالف جیگرنے کولون پولیس پر ’سنگین غلطیاں‘ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

اِس ضمن میں جرمنی میں اب تک 500 سے زیادہ جرائم کے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جن میں سے 40 فیصد خواتین پر جنسی حملوں سے متعلق ہیں جو 31 دسمبر کو کیے گئے تھے۔

کولون میں خواتین پر بڑی تعداد میں حملوں نے پورے جرمنی کو چونکا دیا تھا۔ اِن حملوں کو خواتین نے خوفناک قرار دیا ہے۔

Image caption رالف جیگر ان حملوں کے حوالے سے سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔ اُنھوں نے جمعے کو کولون پولیس کے سربراہ ولف گانگ آلبرس کو معطل بھی کر دیا تھا

رالف جیگر نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ ہیں اور وہ خود بھی سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔

اُنھوں نے جمعے کو کولون پولیس کے سربراہ ولف گانگ آلبرس کو معطل بھی کر دیا تھا۔

رالف جیگر نے ممبرانِ پارلیمان کی ایک کمیٹی سے خطاب کے دوران ایک رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ شمالی افریقہ اور عرب نژاد کم از کم ایک ہزار افراد 31 دسمبر کو کولون کے مرکزی کیتھیڈرل کے اردگرد جمع ہوئے۔

اِس بڑے مجمعے میں سے چند لوگوں نے ایک چھوٹا گروپ بنایا جنھوں نے خواتین کو گھیر لیا اور اُن پر حملوں کی دھمکیاں دیں۔ مشتبہ افراد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو گذشتہ سال جرمنی آئے اور یہاں سیاسی پناہ کے درخواست گزار ہیں۔

31 دسمبر کی شب پیش آنے والے اِن واقعات کی وجہ سے جرمنی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور تارکینِ وطن کے لیے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کی پالیسی پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

جرمن حکام یہ بھی جاننے کے لیے کوشاں ہیں کہ آیا کولون میں تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کا تعلق دیگر شہروں میں پیش آنے والے ایسے واقعات سے ہے یا نہیں۔

Image caption 31 دسمبر کی شب پیش آنے والے اِن واقعات کی وجہ سے جرمنی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور تارکینِ وطن کے لیے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کی پالیسی پر بحث شروع ہوگئی ہے

کولون کے علاوہ جرمنی کے شمالی ساحلی شہر ہیمبرگ اور شٹٹ گارٹ سے بھی سنہ 2015 کی آخری شب ایسے ہی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

خواتین سے بدسلوکی کے ان واقعات کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے لیے قانون میں تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔

اِن تبدیلیوں کے نتیجے میں پناہ گزینوں کی اُن کے آبائی وطن واپسی کا عمل آسان ہو جائے گا۔

اس نئے منصوبے کو جرمن پارلیمان کی منظوری درکار ہوگی اور اس کے تحت ایسے افراد جن کی جرائم پیشہ سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہو، انھیں بھی ملک بدر کیا جا سکے گا۔

اسی بارے میں