جرمنی تارکینِ وطن کو واپس آسٹریا بھجوا رہا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جن لوگوں کو آسٹریا واپس بھجوایا جا رہا ہے وہ شامی باشندے نہیں

آسٹریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز سے ہی روزانہ کی بنیاد پر جرمنی بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کو واپس آسٹریا بھجوا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے پاس اصل دستاویزات نہیں ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جو جرمنی میں پناہ کی درخواست نہیں کرنا چاہیے بلکہ کسی اور ملک جانا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ نئے سال کے آغاز کے موقع پر جرمن شہر کلون میں خواتین پر ہونے والے حملوں کا الزام تارکینِ وطن پر لگایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں جرمن چانسلر پر بھی دباؤ پڑا ہے۔

ادھر مشرقی جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ وہاں ہزاروں مظاہرین یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ چوری اور خواتین پر جنسی تشدد کی وجہ تارکینِ وطن کی آمد ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو آسٹریا واپس بھجوایا جا رہا ہے وہ شامی باشندے نہیں۔

آسٹریا کی پولیس نے کہا ہے کہ ان تارکینِ وطن میں زیادہ تر افغان، موروکو اور الجیریا کے باشندے شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں آسٹریا کے بالائی علاقوں میں پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ روزانہ واپس بھجوائے جانے والے تارکینِ وطن کی تعداد 60 سے 200 تک پہنچ چکی ہے۔

گذشتہ ہفتےسویڈن حکام نے بھی ڈینمارک سے آنے والوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے۔کیونکہ یہ علاقہ تارکینِ وطن کی پسندیدہ جگہ ہے۔

اسی بارے میں