’مضایا سے 400 افراد کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نیوزی لینڈ کے اقوام متحدہ کے سفیر کا کہنا ہے کہ شام کے شہر مضایا میں پھنسے لوگوں میں سے 400 افراد کو اس علاقے سے نکالنا ضروری ہے کیونکہ ان کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

انھوں نے یہ بات باغیوں کے کنٹرول میں قصبہ مضایا میں فاقہ کشی کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں بریفنگ دیتے ہوئے یہ بات کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ کم از کم 400 افراد کو اس علاقے سے انخلا فوری طور پر ضروری ہے کیونکہ ان کو طبی امداد کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ان افراد کو آج ہی طبی امداد کی ضرورت ہے اور اقوام متحدہ کو شامی حکومت کی اجازت کی ضرورت ہے تاکہ ان افراد کو وہاں سے نکالا جا سکے۔‘

اس سے قبل شام کے باغیوں کے زیرِ قبضہ قصبے مضایا میں اس کا ایک امدادی قافلہ پہنچا جہاں اطلاعات کے مطابق لوگ فاقہ کشی سے مر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے روانہ کی گئی خوارک 40 ہزار افراد کی ایک ماہ کی ضروریات پوری کر سکے گی۔

محصور علاقوں میں لوگ گھاس کھانے پر مجبور

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق مضایا میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ اس علاقے میں حکومتی سکیورٹی فورسز کے اکتوبر میں محاصرے کے بعد سے امدادی سامان نہیں پہنچ سکا تھا۔

دوسری جانب شمالی صوبے ادلب میں امدادی گاڑیاں متحارب گروہوں کے درمیان معاہدے کے بعد علاقے میں داخل ہوئیں۔

بی بی سی عربی کے نامہ نگار کے مطابق اقوام متحدہ کے امدادی سامان سے لدے تین ٹرک مضایا میں داخل ہوئے جبکہ دیگر داخلے کی اجازت کے انتظار میں ہیں۔

پیر کی صبح کو اقوام متحدہ، انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس، شامی ہلال احمر اور عالمی ادارہ خوراک کے 65 ٹرک مضایا، كفريا اور فوہ میں داخل ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں 20 ہزار افراد مارچ سے پھنسے ہوئے ہیں۔

امدادی سامان میں چاول، کھانے کا تیل، آٹا، چینی، نمک، پانی، بچوں کا خشک دودھ، کمبل، اودیات اور جراحی کے آلات شامل ہیں۔

خوراک کے بعد ادویات اور دوسری اشیا کو رواں ہفتے ہی علاقے میں روانہ کیا جائے گا۔ اتوار کو ایک قافلے کو باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے پہنچنا تھا تاہم آخری لمحات میں کچھ مسائل کی وجہ سے یہ قافلہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔

لبنان کی سرحد کے قریب واقع قصبے مضایا میں 40 ہزار کے قریب لوگ موجود ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہاں کے رہائشی زندہ رہنے کے لیے پالتو جانور اور گھاس پھوس کھانے پر مجبور ہیں۔

امدادی ادارے ریڈ کراس کے ایک اہلکار پاول رایزیک کہتے ہیں کہ جب وہ علاقے داخل ہوئے تو مکین ہر پانچ منٹ بعد آکر ان سے پوچھتے تھے کہ ’سنو کہا تم خوراک لائے ہو، کیا تم دوائیاں لائے ہو۔‘

وہ بتاتے ہیں کچھ لوگ مسکرا کر ہاتھ ہلا رہے تھے تاہم بہت سے لوگ کمزور حالت میں تھے اور تھکے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مدایا میں غذائی قلت کی تصاویر نے عالمی امدادی اداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائي ہے

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) کے برائس دا لا وگنے نے قصبے کی صورتحال کو ’بہت ہولناک‘ قرار دیا ہے۔

دا لا وگنے جن کی تنظیم مضایا میں موجود ڈاکٹروں سے رابطے میں ہے، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں موجود 250 سے زائد افراد ’شدید غذائی قلت‘ کا شکار ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ’اُن میں سے 10 افراد کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے وہاں سے نکالے جانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ وہ مرجائیں گے۔‘

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ مضایا میں یکم دسمبر کے بعد سے اب تک 28 افراد بھوک کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم حزب اللہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ باغی گروہ لوگوں کو علاقے سے نکلنے کی اجازت نہیں دے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شام کی 45 لاکھ آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہے

خیال رہے کہ شام کی 45 لاکھ آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہے اور ان میں سے چار لاکھ افراد ایسے 15 محصور علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انھیں ہنگامی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں