گن کنٹرول کے لیے نیویارک میں خصوصی عدالتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption توقع کی جا رہی ہے کہ گن کنٹرول کے لیے عدالتیں اپنا کام رواں ہفتے ہی شروع کریں گی

نیویارک میں حکام کا کہنا ہے کہ بندوق سے ہونے والے تشدد پر قابو پانے کے لیے خصوصی عدالتیں اور نیا پولیس یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔

اسلحے کے روک تھام کی غلط تشریح پر اوباما تنقید کی زد میں

’اب کوئی بہانہ نہیں چلے گا‘

نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اسلحے کے استعمال سے متعلق کیسز سے جلد ازجلد اور بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ عدالتیں اپنا کام رواں ہفتے ہی شروع کریں گی جبکہ پولیس کے نئے یونٹ میں 200 افسران بھرتی کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ خصوصی عدالتوں اور پولیس یونٹ کے قیام کا اعلان صدر اوباما اس بیان کے ایک ہفتے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ بندوق سے پھیلنے والے تشدد کو روکنے کے لیے یکطرفہ فیصلہ کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی اُمیدوار بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر وہ صدر بنے تو وہ پہلے ہی دن سکولوں میں گن فری زونز ختم کردیں گے۔

اس سے قبل امریکی کانگریس میں ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق قانون سازی کرنے کی کوشش ناکام ہوئی تھی۔

سنہ 2013 میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن جماعت نے کانگریس میں بل جمع کروایا تھا جس کے تحت ہتھیار کی خرید و فروخت میں زیادہ تحقیقات متعارف کروائی جانی تھیں لیکن یہ قانون منظور نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں