ملازمین کی پیغام رسانی، ای میلز پڑھنا خلاف قانون نہیں: عدالت

Image caption رومانیہ میں ایک کمپنی میں کام کرنے والے ایک ملازم نے عدالت سے رجوع کیا تھا کہ 2007 میں اس کی کمپنی نے اس کے پیغامات پڑھے اور بعد میں نوکری سے نکال دیا

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے فیصلہ دیا ہے کہ آجروں کی جانب سے دفتری اوقات کے دوران اپنے ملازمین کی پیغام رسانی اور ای میلز پڑھنا خلاف قانون نہیں ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ کمپنیوں کو دفتری اوقات کے دوران ملازمین کے یاہو میسنجر پر بھیجے گئے پیغامات پڑھنے کا حق ہے۔

ججز نے کہا کہ دفتری اوقات میں پیغام رسانی کرنا یا ای میل کرنا کمپنی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے اور کمپنی کو حق ہے کہ یہ معلوم کرے کہ یہ ملازم کام مکمل کر رہا ہے یا نہیں۔

سٹراسبرگ میں یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے یہ فیصلہ منگل کو دیا۔ یہ فیصلہ ان تمام ملکوں میں لاگو ہو گا جنھوں نے یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کی توثیق کی ہوئی ہے جن میں برطانیہ بھی شامل ہے۔

رومانیہ میں ایک کمپنی میں کام کرنے والے ایک ملازم نے عدالت سے رجوع کیا تھا کہ سنہ 2007 میں اس کی کمپنی نے اس کے پیغامات پڑھے اور بعد میں نوکری سے نکال دیا۔

اس کمپنی کو معلوم ہوا تھا کہ یہ ملازم یاہو میسنجر سرکاری کام کے علاوہ اپنے ذاتی رابطوں کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

ججوں نے کہا کہ کمپنی نے پیغامات تک رسائی اس لیے حاصل کی کہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ سرکاری اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر رہے ہیں اور کمپنی نے ایسا کرنے میں غلطی نہیں کی۔

عدالت نے اس ملازم کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کوئی غلط بات نہیں کہ کمپنی اگر یہ معلوم کرے کہ دفتری اوقات کے دوران ملازم اپنا کام مکمل کر رہا ہے‘۔

تاہم ججوں نے فیصلے میں کہا ہے کہ نظام کے بغیر پیغامات تک رسائی لینا ناقابل قبول ہے۔ انھوں نے فیصلے میں لکھا کہ کمپنیاں ایسی پالیساں مرتب کریں جس میں واضح طور پر ملازمین کے لیے صاف ہدایات ہوں کہ وہ کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔