تارکِ وطن پر تشدد کرنے پر چار اسرائیلیوں پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اریٹریا کے شخص کو پہلے پولیس نے گولی ماری پھر ہجوم نے زدوکوب کیا

اسرائیل کے چار باشندوں پر اریٹریا کے ایک تارک وطن کو مارنے پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

اریٹریا کے باشندے ہیبٹام زرہوم کو غلطی سے گذشتہ اکتوبر میں ہونے والے حملے کا بندوق بردار سمجھ لیا گيا تھا۔

پہلے انھیں سکیورٹی گارڈ نے بیر شیبا کے بس سٹینڈ پر گولی ماری پھر ایک مشتعل ہجوم نے خون میں لت پت زرہوم کی لاتوں اور گھونسے سے پٹائی کی۔

بہر حال پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کی موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی تھی نہ کہ مارنے پیٹنے سے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جیل کے ایک اہلکار، ایک فوجی اور دو شہریوں پر شدید زدوکوب کرنے کے لیے فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

18 اکتوبر کے موبائل فوٹیج میں مسٹر زرہوم زخمی حالت میں زمین پر پڑے ہوئے ہیں، ایک سٹول ان کے اوپر ہے جسے ایک سکیورٹی اہلکار نے پکڑ رکھا ہے اور وہ مشتعل ہجوم میں گھرے نظر آ رہے ہیں۔

اس کے بعد ان کے سر پر کئی کرسیاں گرائی جاتی ہیں اور لوگ انھیں لاتیں مارتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسرائیل اور فلسطین کے درمیان اکتوبر کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ نظر آتا ہے

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے بعد میں اسرائیلی باشندوں سے قانون اور انصاف کو اپنے ہاتھ میں لینے سے باز رہنے کی اپیل کی۔

خیال رہے کہ یہ پٹائی اسی وقت ہوئی جب ایک عرب اسرائیلی نے بیر شیبا میں مہلک حملہ کیا تھا۔

حملہ آور نے ایک اسرائیلی فوجی کو ہلاک اور دس دوسرے افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ بعد میں حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

ابتدائی اطلاعات میں یہ بات سامنے آئي تھی کہ دو افراد نے جنوبی اسرائيل کے بس سٹیند پر حملہ کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے بعد سے چھری، چاقو، گولی اور کار کو ٹکرانے کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں 22 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فلسطین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسی مدت کے دوران 149 فلسطینیوں کو ہلاک کیا گيا ہے۔

اسی بارے میں