سعودی عرب میں مقید انسانی حقوق کے کارکن کی اہلیہ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ثمر بداوی معروف سعودی بلاگر رائف بداوی کی ہمشیرہ بھی ہیں

سعودی عرب کی جیل میں قید انسانی حقوق کے لیے مہم چلانے والے نمایاں کارکن ولید ابوالخیر کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ثمر بداوی کو مبینہ طور سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر کے اکاؤنٹ پر اپنے خاوند کی رہائی کے لیے مہم چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس گرفتاری کو’سعودی عرب کی جانب سے (انسانی حقوق) کی سراسر توہین کی تازہ مثال قرار دیا ہے۔‘

ابو الخیر کو سنہ 2014 میں ’حکومت کے خلاف کام کرنے‘ کے الزام میں 15 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ انھوں نے سعودی عرب میں مانیٹر آف ہیومن رائیٹس نامی گروپ کا آغاز کیا تھا۔

ثمر بداوی معروف سعودی بلاگر رائف بداوی کی ہمشیرہ بھی ہیں جو سنہ 2014 سے مذہب کی توہین کرنے کے الزام میں اور ایک ہزار کوڑوں اور دس سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

رائف بداوی کی اہلیہ انصاف حیدر نے بھی ثمر بداوی کی گرفتاری پہ ٹویٹ کی ہے: ’نہایت اہم: ثمر بداوی کو @WaleedAbulkhair کے لیے ٹوئٹر اکاؤنٹ چلانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ولید عبدالخیر سعودی عرب کی حکومت کے ناقد ہیں

ایمنسٹی انٹرنیشنل امریکہ نے مقامی کارکنوں کی وساطت سے بتایا ہے کہ ثمر بداوی کو منگل کے روز سعودی عرب کے شہر جدہ سے گرفتار کیا گیا تھاجس کے بعد انھیں ان کی دوسالہ بیٹی کے ہمراہ پولیس سٹیشن منتقل کردیا گیا تھا۔

ایمنسٹی امریکہ کے مطابق ابتدائی تفتیش کے بعد ثمر بداوی کو جیل بھیج دیا گیا تھا اور ممکنہ طور پر انھیں بدھ کی شام تک استغاثہ کے سامنے پیش کیا جائےگا۔

ایمنسٹی کے فلپ لوتھر کہتے ہیں کہ یہ گرفتاری ’اس بات کی مظہر ہے کہ حکام انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والےکارکنوں کو خوفزدہ کرکے خاموش کروانے کے لیے کس حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔‘

سعودی حکام کی جانب سے اس مسئلے پر اب تک عوامی سطح پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں