گوانتانامو میں 100 سے بھی کم قیدی رہ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ United States Department of Defense
Image caption حال ہی میں دیگر ممالک میں منتقل ہونے والے قیدیوں میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جنھیں 10 سال سے زائد عرصے سے بغیر کسی الزام اور مقدمے کے قید میں رکھا جا رہا تھا

کیوبا میں خلیج گوانتانامو میں امریکہ کے متنازع حراستی مرکز کے قیدیوں کی کل تعداد 100 سے کم ہوگئی ہے۔

قیدیوں کی تعداد میں یہ کمی جمعرات کو 10 یمنی باشندوں کی اومان منتقلی کے بعد ہوئی ہے۔

اوباما گونتانامو کی بندش کے لیے پرعزم

یمنی قیدی گھانا منتقل

قیدیوں کی رہائی سے امریکی صدر براک اوباما کے گوانتانامو کو بند کرنے کے عزم میں ہونے والی پیش رفت کی عکاسی ہوتی ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے قیدیوں کو جگہ دینے کے لیے حکومتِ اومان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اومان ان یمنی باشندوں کی مستقل رہائش گاہ ملنے تک عارضی طور پر ان کی میزبانی کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اب تک یہاں کل 780 افراد قید کیے جا چکے ہیں جنھیں شدید ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی گئیں

اومان کے سرکاری حکام نے جمعرات کو کہا کہ جب تک جنگ کے شکار یمن میں صورتحال بہتر نہیں ہوجاتی رہائی پانے والے 10 یمنی اس کے پاس ہی رہیں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایک ہی وقت میں گوانتانامو سے منتقل ہونے والے قیدیوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

اس قید خانے پر انسانی حقوق کے کارکنان کئی بار تنقید کر چکے ہیں۔

حال ہی میں دیگر ممالک میں منتقل ہونے والے قیدیوں میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جنھیں 10 سال سے زائد عرصے سے بغیر کسی الزام اور مقدمے کے قید میں رکھا جا رہا تھا۔

قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ ریپریو کا کہنا جمعرات کو رہا ہونے والے قیدیوں میں سمیر ناجی مقبول بھی شامل تھے جنھیں بغیر کسی جرم کے 14 سال تک قید رکھا گیا۔

اس گروہ کا کہنا ہے کہ سمیر کو شدید جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ سنہ 2013 میں انھوں نے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔

ایک اندازے کے مطابق اب گونتانامو میں 93 قیدی رہ گئے ہیں۔

یہ قید خانہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے آغاز کے بعد سنہ 2002 میں قائم کیا گیا تھا اور یہاں پر ایسے افراد کو قید کیا جاتا تھا جنھیں امریکی حکام ’دشمن جنگجو‘ قرار دیتے تھے۔

گوانتانامو میں پہلی مرتبہ 11 جنوری 2002 کو 20 قیدی لائے گئے اور اس کے بعد سے اب تک یہاں کل 780 افراد قید کیے جا چکے ہیں جن میں سے بیشتر پر نہ تو کوئی الزام عائد کیا گیا اور نہ ہی مقدمہ چلا۔

امریکی صدر براک اوباما چاہتے ہیں کہ کیوبا کے جزیرے پر قائم یہ جیل ان کے دورِ صدارت میں بند ہو جائے۔

سنہ 2015 میں 20 افراد کی گوانتانامو سے رہائی عمل میں آئی جبکہ 2014 میں اس قید خانے سے 28 قیدی رہا کیے گئے جو صدر اوباما کے سنہ 2009 میں امریکی صدر بننے کے بعد سب سے بڑی تعداد تھی۔

اسی بارے میں