جکارتہ حملے: ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں جمعرات کو ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں میں ہونے والی ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اس طرح پولیس کے مطابق مرنے والوں کی تعداد اب آٹھ ہو گئی ہے جن میں چار عام شہری بھی شامل ہیں۔

شروع میں حکام کا خیال تھا کہ حمہ آووروں کی تعداد پانچ تھی، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ایک شخص جس کو جنگجو سمجھا جا رہا تھا وہ ایک عام شہری تھا۔

تمام حملہ آووروں کو جن میں دو سابقہ سزا یافتہ مجرم بھی شامل ہیں مار دیا گیا تھا۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حملوں کے بعد شہر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے

انڈونیشیا کی سکیورٹی افواج اور شدت پسندوں کے درمیان کئی گھنٹوں کے مقابلے میں کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

شدت پسندوں نے دارالحکومت کے ایک سٹار بکس کیفے، ایک سنیما اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو نشانہ بنایا تھا۔

دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے آن لائن بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے ان کی خلافت کے سپاہیوں نے کیے ہیں جن میں صلیبی اتحادیوں کے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک کینیڈین اور ایک انڈونیشیائی شہری شامل ہے۔