امریکہ: بھارتی پر حملہ کرنے والا پولیس افسر رِہا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سریش بھائی پٹیل اپنے پوتے کی پیدائش کے موقعے پر حال ہی میں امریکہ گئے تھے

امریکہ میں فیڈرل جج نے ایک ایسے پولیس افسر کو رہا کر دیا جس پر ایک بھارتی پر سنگین حملہ کرنے کا الزام تھا۔

جج میڈلائن ہکالا نے ایرک پارکر نام کے پولیس افسر کا کیس خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس سے متعلق دو سنوائیوں میں جو شہادتیں پیش کی گئی ہیں ان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ مسٹر پاکر قصوروار ہیں۔

گذشتہ سال ریاست ایلاباما کے مضافات میں ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں 57 سالہ سریش بھائی پٹیل اور دو پولیس افسران کے درمیان جھڑپ ریکارڈ ہوئی تھی۔

مسٹر پٹیل کو زمین پر گرا دیا گیا تھا اور مسٹر پٹیل کے بقول اس دوران چوٹ لگنے سے وہ جزوی طور پر معذور ہو گئے ہیں۔

فوٹیج میں دکھایا گیا تھا کہ مسٹر پٹیل، جو انگریزی نہیں بول سکتے، پولیس افسران سے بچ کر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جنھوں نے انھیں پکڑ کر زمین پر دھکیل دیا تھا۔

جواب میں پولیس افسر کا کہنا تھا کہ مٹر پٹیل کا حلیہ اور برتاؤ چوروں جیسا تھا۔

افسر کے مطابق جب پولیس افسران نے انھیں روک کر بات کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہاں سے نکلنے کی کوشش کی جس پر پولیس کو ان پر شبہ ہوا۔

سریش بھائی پٹیل اپنے پوتے کی پیدائش کے بعد حال ہی میں امریکہ آئے تھے تاکہ اپنے بیٹے کی مدد کر سکیں۔

جس وقت پولیس کوایک مشتبہ شخص کے بارے میں ان کے ایک ہمسائے کا فون آیا تو وہ اپنے بیٹے کے گھر کے باہر ٹہل رہے تھے۔

معمر سریش بھائی پٹیل نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ انھوں نے پولیس افسرسے کہا تھا کہ وہ انڈین ہیں اور انگریزی نہیں بول سکتے اس کے باوجود بھی پولیس افسر نے انھیں زمین پر پٹخ دیا جس سے انھیں سخت چوٹ آئی۔

اسی بارے میں