داعش کے اکاؤنٹ، بیوہ کا ٹوئٹر پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تمارا فیلڈز کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر اپنا نیٹ ورک دانستہ طور پر عسکری شدت پسند گروہ کو اپنے پروپیگنڈے، پیسے جمع کرنے، اور نئی بھرتیوں کے لیے استعمال کرنے دیتا ہے

اردن میں ہلاک ہونے والے ایک امریکی شہری کی بیوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نام نہاد دولت اسلامیہ کو اپنے نظریات پھیلانے کی سہولت مہیا کرنے کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

اس مقدمے کے سبب شدت پسندی سے متعلق آن لائن پروپیگنڈا کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔

امریکی ریاست فلوریڈا کی رہائشی تمارا فیلڈز کے خاوند لائڈ گذشتہ سال نومبر میں اردن کے شہر عمان میں پولیس کے تربیتی مرکز پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

تمارا فیلڈز کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر اپنا نیٹ ورک دانستہ طور پر شدت پسند گروہ کو اپنے پروپیگنڈے، پیسے جمع کرنے اور نئی بھرتیوں کے لیے استعمال کرنے دیتا ہے۔

شدت پسندی کے مقدمات میں مہارت رکھنے والے وکلا کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس مقدمے سے ٹوئٹر اور فیس بُک جیسی سوشل میڈیا کمپنیوں پر شدت پسند گروہوں کی پوسٹیں ہٹانے پر دباؤ میں اضافہ ہوگا تاہم فیلڈز کو اس کے لیے ایک مشکل لڑائی کاسامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فیلڈز کے مطابق ٹوئٹر شدت پسندوں کی مدد کر کے انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے اس لیے وہ انھیں ہرجانہ ادا کرے

بدھ کے روز دائر کی جانے والی اپنی شکایت میں فیلڈز کا کہنا تھا کہ سان فرانسسکو کی کمپنی ٹوئٹر نے اب سے کچھ عرصے قبل تک نام نہاد دولت اسلامیہ (آئی ایس آئی ایس) کو ’بلا روک ٹوک‘ ٹوئٹر پر اپنے باقاعدہ اکاؤنٹس چلانے کی سہولت مہیا کی ہوئی تھی۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر آکلینڈ کی عدالت میں دائر کیے جانے والے اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’ٹوئٹر کے بغیر سب سے زیادہ دہشت گرد گروہ آئی ایس آئی ایس گذشتہ چند سالوں میں دنیا بھر میں خطرناک حد تک تیز رفتاری سے نہیں پھیل سکتا تھا۔‘

فیلڈز کے مطابق ٹوئٹر شدت پسندوں کی مدد کر کے انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے اس لیے وہ انھیں ہرجانہ ادا کرے۔

ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جس میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ کی کمپنی پر اس قانون کی پامالی کا الزام لگایا گیا ہے۔

اس مقدمے کے حوالے سے جاری کیے جانے والے اپنے بیان میں ٹوئٹر کا کہنا ہے:’جہاں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بے بنیاد مقدمہ ہے وہیں اس خاندان کو پہنچنے والی تکلیف پر ہمیں دلی صدمہ ہے۔

’ٹوئٹر پر پُرتشدد دھمکیوں اور شدت پسندی کو فروغ دینے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کی طرح اس بارے میں ہمارے اصول واضح ہیں۔‘

امریکی تھنک ٹینک دی بُروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے ایک اندازے کے مطابق سنہ 2014 کے ستمبر اور دسمبر کے مہینوں کے درمیان نام نہاد دولت اسلامیہ کے حامیوں کے کم از کم 46 ہزار ٹوئٹر اکاؤنٹ کام کر رہے تھے۔

آن لائن ’ٹرانسپیرنسی رپورٹ‘ کے مطابق ٹوئٹر نے سنہ 2015 کے جنوری اور جون کے مہینوں کے دوران امریکی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پوسٹیں ہٹانے کے لیے کی جانے والی 25 درخواستوں میں سے کسی کی بھی پاسداری نہیں کی۔

اسی بارے میں