ملکہ رانیہ کا چارلی ایبڈو کو کھرا جواب

Image caption یہ کارٹون اردن کے ایک آرٹسٹ نے بنایا ہے

اردن کی ملکہ رانیہ نے فرانسیسی متنازع جریدے چارلی ایبڈو کی جانب سے ڈوب کر ہلاک ہونے والے شامی پناہ گزین بچے ایلن کر دی کے بارے میں شائع کیے گئے ایک متنازع کارٹون کا کھرا کھرا جواب دیا ہے۔

چارلی ایبڈو کی جانب سے شائع کیے گئے کارٹون میں ایلن کردی کا تعلق جرمنی میں عورتوں پر جنسی حملے کرنے والے تارکینِ وطن سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ڈوبنے والے شامی بچے کے باپ کا دکھ

جریدے میں چھپنے والے کارٹون میں ایک شخص کو ایک عورت کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے اور اس پر تحریر درج ہے کہ ’ایلن بھی بڑا ہوکر جرمنی میں جنسی حملے کرنے والوں جیسا بنتا۔‘

جریدے پر دنیا بھر سے نسل پرستی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

لیکن اردن کی ملکہ رانیہ نے اس کا جواب سماجی رابطوں کی سائٹ پر ایک کارٹون شیئر کر کے دیا ہے۔ اردن کے ایک آرٹسٹ کی جانب سے بنائے گئے اس کارٹون میں دیکھایا گیا ہے کہ ایلن بڑا ہوکر ایک ڈاکٹر بنتا ہے۔

Image caption ملکہ رانیہ نے ٹوئٹر پر چارلی ایبڈو کو جواب دیا ہے

سماجی رابطوں کی سائٹ پر پوسٹ کیے گئے اپنے پیغام میں ملکہ رانیہ نے لکھا ہے کہ ’ ایلن بڑا ہو کر ایک ڈاکٹر، استاد یا ایک محبت کرنے والا والد بھی ہوسکتا تھا۔‘

واضح رہے کہ چارلی ایبڈو کی جانب سے یہ کارٹون حال ہی میں جرمنی سے آنے والی ان خبروں کے بعد شائع کیاگیا تھا جن کے مطابق تارکینِ وطن عورتوں پر جنسی حملوں میں ملوث ہیں۔

دوسری جانب کینیڈا میں مقیم ایلن کے رشتہ داروں نے جریدے کی جانب سے اس طرح کے کارٹون کو شائع کرنے پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس ترکی کے ساحل پر لال قمیض پہنے اوندھے منہ پڑے شامی بچے کی لاش کی تصویر نے دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایلن کے رشتہ داروں نے اس طرح کے کارٹون کو شائع کرنے پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے

اسی بارے میں