تائیوان کی پہلی خاتون صدر منتخب

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

تسائی انگ ون تائیوان کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوگئی ہیں۔

59 سالہ تسائی کا تعلق ڈیموکریٹک پراگریسو پارٹی (ڈی ڈی پی) سے ہے، جو چین سے آزادی کے حق میں ہے۔

چین اور تائیوان کے رہنماؤں کے درمیان تاریخی ملاقات

تائیوان اور چین کے مابین چھ سال بعد مذاکرات

اگرچہ انھوں نے چین سے آزادی کے بارے میں ابھی اپنے خیالات کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن مخالفین کا کہنا ہے تسائی کے منتخب ہونے سے چین کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ چین کی ’ون چائنا ‘ پالیسی کو تسلیم نہیں کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ چین کو موقف ہے کہ تائیوان اس کا ایک صوبہ ہے اور اگر اس کا الحاق چین کے ساتھ نہ کیا گیا تو وہ زبردستی اسے ملک میں شامل کر لے گا۔تاہم تائیوان میں بہت سے لوگ چین سےآزادی کے حق میں ہیں اور انھیں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش بھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تسائی نے ان انتخابات میں چین نواز حکمراں جماعت کے امیدوار ایرک چو کو با آسانی شکست دی ہے

تسائی نے ان انتخابات میں چین نواز حکمراں جماعت کے امیدوار ایرک چو کو با آسانی شکست دی ہے۔

دوسری جانب حکمراں جماعت نے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔

یہ انتخابات حال ہی میں چین اور تائیوان کے رہنماؤں کے درمیان 60 سال سے زائد عرصے میں پہلی بار ہونے والی تاریخی ملاقات کے چند ماہ بعد ہوئے ہیں۔

نامہ نگاروں کے بقول انتخابات میں ووٹروں نے ملک کی معاشی صورتحال اور چین کے ساتھ تعلقات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ووٹ ڈالے ہیں۔

خیال رہے کہ حکمراں جماعت ’ کومینگ ٹینگ‘جسے ’ کے ایم ٹی‘ بھی کہا جاتا ہے گزشتہ 70 برس سے اقتدار میں ہے۔

ملک کی تاریخ میں یہ دوسر موقع ہے جب ڈی پی پی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہو۔

سنہ 2008 سے چین اور تائیوان کے تعلقات میں کافی بہتری آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سیاحتی روابط کی بحالی کے علاوہ تجارتی معاہدے بھی کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں