’آلودگی کی سطح زہریلی حد تک پہنچ گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ

عالمی ادارِۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ شہروں میں آلودگی کی سطح زہریلی حد تک پہنچ گئی ہے۔

ادارے کی پبلک ہیلتھ کی سربراہ ڈاکٹر ماریا نیرا نے کہا ہے کہ قبل از وقت اموات اور دل و دماغ کی امراض جیسی طویل مدتی بیماریوں کی شکل میں اس بحران کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

دو ہزار شہروں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق بہت سے لوگ عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ کردہ حد سے کہیں زیادہ آلودگی کے ماحول میں زندگیاں گزار رہے ہیں۔

ڈاکٹر نیرا نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ناقص فضا کے باعث لوگوں کو لاحق خطرے سے نمٹنے کی ذمہ داری لیں۔

اس سے قبل بھی ایک تحقیق میں عالمی ادارۂ صحت نے فضائی آلودگی کو دنیا میں صحتِ عامہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا تھا۔

تحقیق کے مطابق یہ آلودگی دنیا میں مرنے والے ہر آٹھویں فرد کی موت کی وجہ ہے اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں صرف سنہ 2012 میں 70 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔

ان ہلاکتوں میں سے بیشتر جنوبی اور مشرقی ایشیا کے غریب اور متوسط درجے کے ممالک میں ہوئیں اور نصف سے زیادہ اموات لکڑی اور کوئلے کے چولہوں سے اٹھنے والے دھوئیں کی وجہ سے ہوئیں۔

تحقیق کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ مکانات کے اندر کھانا پکانے کے عمل کے دوران اٹھنے والے دھویں سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر صرف کھانا پکانے کے لیے محفوظ چولہے ہی فراہم کر دیے جائیں تو دنیا میں لاکھوں افراد کی جانیں بچ سکتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بیرونی فضائی آلودگی چین اور بھارت جیسے ممالک کے لیے بڑا مسئلہ ہے جہاں تیزی سے صنعت کاری ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں