’امریکہ اور برطانیہ کی آخری فوجی کامیابی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدام حسین ہمسایہ ملک کویت میں داخل ہو گئے تھے

چوتھائی صدی بعد حالیہ تنازعات کی دھند میں سے دیکھا جائے تو خلیج کی پہلی جنگ ممکنہ طور پر واضح فوجی کامیابی دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے اسے امریکہ اور برطانیہ کی آخری قابل ذکر فوجی کامیابی کہا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد خطے میں مغرب کی فوجی ناکامی کو ماضی کی حسرت ناک یادوں کے طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت وہاں ایک سادہ فوجی ہدف تھا۔ صدام حسین نے ہمسایہ ملک کویت پر حملہ کر دیا اور دنیا صدام کی فوج کو کویت سے نکالنے کے لیے طاقت کے استعمال پر تیار ہو گئی۔

اس مقصد پر ہم آہنگی کی عکاسی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کی وجہ سے تقریباً ایک متفقہ معاہدے کی صورت میں دیکھنے میں آئی۔

آپریشن ڈیزٹ سٹارم میں ساتویں آرمریڈ بریگیڈز کے کمانڈنگ آفیسر جنرل سر پیٹرک کورڈینگلی کے مطابق ’مقصد منصفانہ اور قانونی تھا۔‘ اس میں اہم بات یہ تھی یہ آپریشن برطانوی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت تھا، جبکہ عراق میں 2003 میں حملہ غیر واضح تھا۔ پہلی خلیجی جنگ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک وسیع فوجی اتحاد وجود میں آیا تھا، جس میں سعودی عرب، مصر اور برطانیہ سمیت 30 سے زیادہ اتحادی شامل تھے اور اس میں 50 ہزار زمینی فوج کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ایک یہ سادہ روایتی جنگ تھی نہ کہ نامعلوم شدت پسند مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی۔

جنگی علوم سے متعلق کنگز کالج میں پروفیسر مائیکل کلارک کے مطابق کئی پہلووں سے یہ نیٹو کی جنگ تھی اور یورپ نے اسے تیار کیا تھا لیکن یہ یورپ میں نہیں لڑی گئی تھی۔

پروفیسر کلارک کے مطابق یہ فوجی انقلاب کا آغاز بھی تھا اور اس میں پہلی بار ہم نے سمارٹ بموں اور گائیڈ ہتھیاروں کے بارے میں سنا۔

اس میں دنیا نے امریکہ کی جانب سے ٹاما ہاک کروز میزائلوں کی بمباری دیکھی۔

دوسری جانب سے عراقی اسلحہ اتنا جدید نہیں تھا لیکن سکڈ میزائل اور کیمیائی ہتھیاروں کا ممکنہ استعمال کا خطرہ باعث خوف تھا۔

آپریشن ڈیزرٹ سٹارم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی بحری جہازوں سے عراقی فوجی اہداف پر بہت بڑی تعداد میں کروز میزائلوں داغے گئے

جنوری 1991 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد میں عراق کی جانب سے ہمسایہ ملک کویت سے اپنی فوج نہ نکالنے پر طاقت کے استعمال کی اجازت دے دی۔

اس کے ایک دن بعد 16 جنوری کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق رات ساڑھے 11 بجے پر امریکی کے بحری جنگی جہازوں، جبکہ برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کے جنگی طیاروں، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کروز میزائلوں سمیت شدید بمباری شروع کر دی گئی۔

پہلے 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ پروازیں کی گئی جن میں مرکزی ہدف عراقی فوج تھی لیکن اس میں عراقی دارالحکومت بغداد پر شدید حملے کیے گئے جس فروری کے اختتام تک کئی عام شہری بھی مارے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ US NAVY
Image caption عراقی فوج شدید نقصان کے بعد کویت سے نکل گئی

عراقی فوج شدید نقصانات کے بعد 27 فروری کو کویت سے نکل گئی اور تین روزہ زمینی کارروائی اس وقت اختتام پذیر ہوئی جب امریکی صدر جارج بش نے فتح کا اعلان کیا۔

الیکٹرانک میڈیا کے دور کے آغاز پر آپریشن ڈیزرٹ سٹارم پہلی جنگ تھی جس کی ٹی وی پر براہ راست کوریج کی گئی جس میں میدان جنگ سے رپورٹیں اور براہ راست نشریات پیش کی گئیں۔ یہ اس وقت سے فوج کے لیے چیلنج بھی بن گیا ہے ہے جس کو وہ ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دشمن کو فضائی کارروائیوں کے ذریعے کمزور کرنے میں کئی ہفتے لگے، لیکن زمینی کارروائی دنوں میں ختم ہو گئی۔

’ یہ 100 گھنٹوں پر محیط جنگ‘ تھی لیکن دوسرے غیر اعلانیہ ہدف کو نامکمل چھوڑ دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ US Air Force
Image caption جنگ کے بعد صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش ناکام ہو گئی

اس آپریشن میں برطانیہ کی پہلی آرمرڈ ڈویژن کی سربراہی کرنے والے جنرل سر روپرٹ سمتھ کے مطابق جب کویت کو آزاد کرنے کا ہدف حاصل کر لیا گیا تو سٹریٹیجک حالات مشکل سے فیصلہ کن تھے اور بعد ازاں ان کو اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں اور نو فلائی زونز کے ذریعے قائم رکھا گیا۔

صدام حسین کو واپس اس کی اصل جگہ پر بھیجنے یا ان کے اقتدار کے خاتمے میں مدد کی کوشش ناکام ہو گئی۔

پروفیسر کلارک کے مطابق بہت جلد فوجی کامیابی حاصل ہونے کے نتیجے میں کئی فریب پیدا ہوئے۔

اس کے بعد امریکہ کی قیادت میں افغانستان اور عراق میں فوجی مداخلت غیر روایتی دشمنوں کے خلاف تھی۔ یہ طویل اور مہنگی لڑائی ہے اور اس کا اختتام واضح فتح حاصل ہوئے بغیر ہو سکتا ہے۔

خاص کر 2003 میں امریکی اتحاد میں عراق پر حملے کے نتیجے میں امریکی فوجی طاقت کی حد اور بین الاقوامی اتحاد کے بارے میں معلوم ہوا جس میں اقوام متحدہ بری طرح تقسیم ہو گئی۔

جنرل سر پیٹرک گورڈنگلی کے مطابق برطانوی فوج کو اب لوگوں کے بیچ میں رہتے ہوئے جنگ لڑنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اب وہ دوبارہ کبھی بھی خلیجی جنگ جتنی بڑی کارروائی کرنے کے لیے ’نااہل‘ ہو گی۔

اسی بارے میں