جنسی حملے کے شبہے میں الجزائری پناہ گزین گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کولون پولیس کا کہنا ہے کہ وہ 31 دسمبر کی شب پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں 21 افراد سے تفتیش کر رہی ہے

جرمنی کے شہر کولون میں پولیس نے الجزائر سے تعلق رکھنے والے ایک 26 سالہ پناہ گزین کو سالِ نو کی تقریبات کے دوران خواتین پر جنسی حملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں حراست میں لیا ہے۔

مذکورہ شخص کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا گیا ہے تاہم مقامی استغاثہ کا کہنا ہے کہ اسے کرپن نامی قصبے میں پناہ گزینوں کے ایک مرکز سے اختتامِ ہفتہ پر حراست میں لیا گیا۔

’کولون میں تشدد اور جنسی حملے منصوبہ بندی کے تحت ہوئے‘

میرکل تارکینِ وطن کے لیے سخت قوانین کی خواہاں

جرمنی کا جرائم میں ملوث پناہ گرینوں کو ملک بدر کرنے پر غور

جرمنی میں سالِ نو کے جشن پر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایات

اس شخص پر ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور اس کا فون چوری کرنے کا شبہ ہے۔

کولون پولیس کا کہنا ہے کہ وہ 31 دسمبر کی شب پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں 21 افراد سے تفتیش کر رہی ہے لیکن ان میں سے کسی پر بھی جنسی حملوں کا الزام نہیں۔

سرکاری وکیل الرچ بریمر کا کہنا ہے کہ ان میں سے آٹھ افراد زیرِ حراست ہیں اور مقدمہ چلائے جانے کا انتظار کر رہے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر پر چوری کے الزامات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کولون میں خواتین پر بڑی تعداد میں حملوں نے پورے جرمنی کو چونکا دیا تھا

26 سالہ الجزائری پناہ گزین وہ پہلے شخص ہیں جن پر جنسی حملہ کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ان کے ہمراہ ایک اور 22 سالہ الجزائری کو بھی حراست میں لیا گیا اور اس پر فون چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

کولون میں سالِ نو کی تقریبات کے موقع پر بڑے پیمانے پر عوامی بدنظمی کے واقعات پیش آئے تھے۔

ان معاملات کی تفتیش کرنے والے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد میں سے بیشتر تارکینِ وطن ہیں اور اُن کا تعلق شمالی افریقی اور عرب ممالک سے ہے۔

پولیس کے مطابق اِس ضمن میں اب تک 883 شکایات درج کروائی جا چکی ہیں جن میں سے 497 ایسی خواتین نے درج کروائی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان پر جنسی حملے کیے گئے۔

جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ اس شام اور رات میں ہونے والے جرائم کے تناظر میں درج کیے گئے مقدمات کی تعداد 766 ہے جن میں سے تین جنسی زیادتی کے معاملات بھی ہیں۔

کولون میں خواتین پر بڑی تعداد میں حملوں نے پورے جرمنی کو چونکا دیا تھا۔

اِن حملوں کے بعد جرمنی میں تارکینِ وطن مخالف مظاہرے بھی ہوئے جبکہ پاکستانیوں سمیت دیگر تارکینِ وطن پر حملوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

خواتین سے بدسلوکی کے واقعات کی وجہ سے جرمنی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے لیے قانون میں تبدیلیاں بھی تجویز کی ہیں۔

اسی بارے میں