ایران کو منجمد اثاثوں سے بھاری رقوم کی توقع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ولی اللہ سیف نے بتایا کہ مذکورہ منجمد اثاثے جاپان اور جنوبی کوریا کے بینکوں میں پڑے ہوئے تھے

ایران کے مرکزی بینک کے مطابق پابندیاں اٹھائے جانے کے نتیجے میں ایران کو منجمد کیے جانے والے اثاثوں میں سے 32 ارب ڈالر مل جائیں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان خیالات کا اظہار ایران کے سرکاری بینک کے سربراہ ولی اللہ سیف نے منگل کو کیا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ولی اللہ سیف کے بقول منجمد اثاثوں کی بحالی سے وقول ہونے والے ان 32 ارب ڈالر میں سے 28 ارب ڈالر مرکزی بینک میں ڈالے جائیں گے جبکہ چار ارب ڈالر سرکاری خزانے میں جمع کرائے جائیں گے۔

’نئی پابندیوں کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں‘

ایران پر تاریخی پیش رفت سفارت کاری سے ہوئی: اوباما

ولی اللہ سیف کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایران کے خلاف پابندیاں واقعی مکمل طور پر اٹھا لی گئی ہیں، منجمد ایرانی اثاثوں میں سے کچھ رقم حال کر لی گئی ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ولی اللہ سیف نے بتایا کہ مذکورہ منجمد اثاثے جاپان اور جنوبی کوریا کے بینکوں میں پڑے ہوئے تھے جہاں سے اب انھیں جرمنی اور متحدہ عرب امارات کے بینکوں میں منتقل کر لیا گیا ہے، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنی رقم منتقل ہوئی ہے۔

ولی اللہ سیف کا کہنا تھا کہ گذشتہ آخرِ ہفتہ کو پابندیاں اٹھائے جانے سے ایران کو اپنے بیرون ملک منجمد اثاثوں میں سے 32 ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہو جائے گی جس سے ایران کو تبادلہ زر کی مد میں 15 فیصد کی بچت ہو گی۔

Image caption حکومت کو چاہیے کہ وہ نجی کاروبار کے لیے جگہ بنانا شروع کر دے: صدر حسن روحانی

مرکزی بینک کے سربراہ نے اس عہد کا بھی اظہار کیا کہ چھ ماہ کے اندر اندر بین الاقوامی کرنسیوں اور ایرانی سکے کے درمیان تبادلۂ زر کی شرح پر قابو پا لیا جائے گا اور یوں تبادلہ زر کا غیر قانونی کاروبار (بلیک مارکیٹ) ختم ہو جائے گا جہاں کرنسی کی سرکاری قیمت سے 20 فیصد زیادہ کی شرح پر کرنسیاں تبدیل کی جا رہی ہیں۔

ادھر منگل کو ہی ملک کے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ اب جبکہ بیان الاقوامی پابندیاں اٹھائی جا چکی ہیں، ایران کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو پُر کشش بنانے اور ملکی معشیت کو مستحکم کرنے کی کوششیں تیز تر کر دے۔

تہران میں ملک کی کاروباری شخصیات سے ملاقات کے دوران صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو چاہیے کہ وہ مرحلہ وار پروگرام کے تحت خود کو کاروباری دنیا سے نکالے اور نجی کاروبار کے لیے جگہ بنانا شروع کر دے۔‘ صدر روحانی کا مزید کہنا تھا کہ ایران دنیا کے لیے ایک ’ابھرتی ہوئی معیشت‘ ثابت ہو سکتا ہے۔

تـجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شدید اقتصادی پابندیوں کے اٹھنے کے بعد اس کی معیشت میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی اور اسے اپنے ان اثاثوں میں سے اربوں ڈالر ملنا شروع ہو جائیں گے جو منجمد نہیں تھے۔

گذشتہ برس چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پائے جانے کے بعد سے کئی غیر ملکی کاروبای وفود تیل سے مالا مال ایران کی بڑی منڈی میں سرمایہ کاری کی غرض سے ایران کے دورے کر چکے ہیں۔

آٹھ سو ارکان کے وفد کو لے کر چین کے صدر شی جن پنگ بھی آئندہ ہفتے ایران پہنچ رہے ہیں جبکہ توقع ہے کہ ایرانی صدر اگلے ماہ اٹلی اور فرانس کے دوروں پر جا رہے ہیں۔ پابندیاں لگائے جانے سے پہلے جن ممالک کے ساتھ ایران کی سب سے زیادہ تجارت رہی ہے ان میں یہ یورپی ممالک سرفہرست تھے۔

اسی بارے میں