پیرس حملے: متاثرہ خاندان کا بیلجیئم کے خلاف مقدمے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ پیرس میں ہونے والے ان حملوں کی زیادہ تر منصوبہ بندی بیلجیئم میں ہوئی تھی

پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں کے دوران بتاکلان تھیٹر میں ہلاک ہونے والے فرانسیسی شہری کی والدہ نے بیلجیئم کے حکام پر کوتاہی کا الزام عائد کرتے ہوئے اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

نومبر میں پیرس میں حملے کرنے والے اکثر جہادیوں کا تعلق بیلجیئم سے تھا۔

ہلاک ہونے والے شخص کی والدہ نڈین رابٹ کا کہنا ہے کہ بیلجیئم کے حکام کو ایسے عناصر کو ان کارروائیوں سے روکنے کے لیے موثر کارروائی کرنی چاہیے تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ اُن کی بے عملی ہے اور اس بے عملی کے نتیجے میں ہونے والی قتل و غارت میں مرنے والے یہ بچے دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتے۔‘

26 سالہ ویلیٹن رابٹ بھی اُن 130 افراد میں شامل تھے جو پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

پیرس میں ہونے والے ان حملوں کی زیادہ تر منصوبہ بندی بیلجیئم میں ہوئی تھی اور حکام نے گذشتہ ہفتے تین ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں پیرس میں حملہ کرنے والے شدت پسند حملوں نے پرتشدد کارروائیوں سے چند گھنٹے قبل قیام کیا تھا۔

پیرس حملوں میں ملوث زیادہ تر حملہ آور مراکش نژاد بیلجیئم کے شہری تھے اور وہ برسلز کے مضافاتی علاقے مولینبیک کے رہائشی تھے۔ حملے کے مبینہ منصوبہ ساز عبدالحمید اباعود بھی اسی علاقے کے رہنے والے تھے۔

نڈین رابٹ کاکہنا ہے کہ ’ہر ایک کو مولینبیک کے بارے میں معلوم ہے۔ بیلجیئم کے حکام پہلے اور بعد میں کیا کر رہے تھے؟ ہم اُن کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلا رہے ہیں۔

’اُنھیں اُن دس دہشت گردوں کو اُس رات فرانس میں بھیجنے کی بجائے روکنا چاہیے تھا، جو میٹرو اور اپنی کار میں موبائل کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔‘

یہ تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ حملوں میں ہلاک ہونے والے فرانسیسی شہریوں کی ہلاکت پر اُن کے خاندان کس قسم کی قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ریاست کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے بہت زیادہ ٹھوس شواہد ہونے چاہییں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اُن کے پاس معلومات تھیں لیکن وہ کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔

نڈین رابٹ کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے حصول اور اپنے بیٹے کی خاطر بیلجیئم کے حکام کے خلاف کارروائی کریں۔

اسی بارے میں