گیمبیا اسلامی جمہوریہ کیوں بنا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدر جامع نے 1994 میں بغاوت کے نتیجے میں اقتدار حاصل کیا تھا اور ابھی ان کا اقتدار سے الگ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں لگتا

افریقی ریاست گیمبیا کے صدر یحیٰی جامع نے گذشتہ برس دسمبر میں مسلم اکثریت ہونے کے ناطے اپنے ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دے دیا تھا۔

اس فیصلے کے ملک کے لوگوں اور خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور صدر یحیٰی جامع نے ملک کو اسلامی جمہوریہ کیوں قرار دیا؟

صدر جامع نے 11 دسمبر کو ایک جلسے میں ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے افریقہ میں موریطانیہ اسلامی جمہوریہ ہے۔

صدر نے اس اعلان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اقدام سے ملک کے نوآبادیاتی ماضی سے چھٹکارا مل جائے گا۔

افریقی ریاست گیمبیا اسلامی جمہوریہ قرار

صدر کا اعلان غیر متوقع تھا اور بالکل اسی طرح کا فیصلہ تھا جس میں انھوں نے دولتِ مشترکہ میں 48 برس تک رہنے کے بعد اچانک اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ اقدامات ایک ایسے وقت کیے گئے ہیں جب صدر جامع کے بین الاقوامی تعلقات میں تناؤ آ رہا ہے اور ملک سیاسی مشکلات میں گھرتا جا رہا ہے۔

اس کی وجہ سے ملک کی بگڑتی معاشی صورت حال اور عوام پر قرضوں کا بوجھ ہے جو بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے مطابق 2014 میں ملک کی مجموعی معیشت کا ایک سو فیصد ہو گیا تھا۔

صدر جامع کے لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور وہاں سے انھیں قابل ذکر حد تک امداد اور نقدی ملتی تھی۔

انھوں نے 2009 میں قذافی کو ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز دیا لیکن فروری 2011 میں عرب بہار کے دوران انھوں نے قذافی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر کے سب کو حیران کر دیا۔

لیبیا میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد مالی وسائل ملنا بند ہو گئے جس سے گیمبیا کا بجٹ بری طرح متاثر ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صدر جامع نے 2013 میں تائیوان کے ساتھ تعلقات بھی اس وقت ختم کر دیے جب اس نے اقتصادی مسائل سے نکالنے کے لیے مزید رقم دینے سے انکار کر دیا۔ انھیں ممکنہ طور پر اس وقت یہ امید تھی کہ ان کی جانب سے تائیوان سے تعلقات ختم کرنے پر چین نوازے گا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

گیمبیانے 2010 میں ایران سے بھی تعلقات ختم کر دیے جس کے نتیجے میں دو طرفہ تجارتی اور امدادی منصوبے منسوخ کر دیے گئے جس میں گیمبیا کو دو ارب ڈالر مالیت کی بھاری اور کمرشل گاڑیاں ملنی تھیں۔

ان اقدامات کے بعد گیمبیا کو نئے اتحادیوں کی ضرورت تھی۔ اس کے ترکی سے تعلقات قائم رہے اور صدر جامع نے 2014 میں انقرہ کا سرکاری دورہ کیا تھا۔

ترکی کی مسلح افواج 1991 سے گیمبیا کی فورسز کی تربیت کر رہی ہیں جبکہ گیمبیا کے فوجی ترکی میں بھی تربیت کے لیے جاتے ہیں۔

صدر جامع کی نئے دوستوں کی تلاش میں بظاہر خلیجی ممالک سے نئے تعلقات استوار کرنا اور سعودی عرب سے تعلقات کو بہتر کرنا شامل ہے۔

گیمبیا نے اپنی’مقدس ذمہ داری‘ کے سلسلے میں روہنگیا پناہ گزین قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اقدام سے اور ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے کے فیصلے سے امید کی جا رہی ہے کہ اس سے دولت کے دروازے کھل جائیں گے اور ماضی کے اتحادیوں لیبیا، ایران اور تائیوان کی جگہ نئے اتحادی لے سکیں۔

رواں برس صدر جامع کو صدارتی انتخابات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ انھیں ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے کا بین الاقوامی سطح پر فائدہ ہو گا لیکن اس کا مقامی سطح پر بھی اثر پڑے گا کیونکہ ملک کی 90 فیصد آبادی مسلمان ہے۔

صدر جامع کے اعلان سے غیر یقینی بھی پائی جاتی ہے کہ گیمبیا کس طرح کی’ اسلامی جمہوریہ‘ بنے گا۔

چار جنوری کو ایک ایگزیکٹیو حکم نامے میں سرکاری نوکری کرنے والی تمام خواتین کو ہدایت کی گئی کہ وہ دفتری اوقات کے دوران اپنے بالوں کو لازمی ڈھانپ کر رکھیں۔ اس فیصلے کو فوری طور پر ہی واپس لینا پڑا کیونکہ حزب اختلاف کے رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور جمہوریت کے حامیوں نے اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ میں اب گیمبیا کو باقاعدگی سے اسلامی جمہوریہ کہا جاتا ہے جبکہ ملک کی سپریم اسلامی کونسل نے صدر کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ملک میں مکمل طور پر شرعی قوانین کا نفاذ کیا جائے گا کہ نہیں اور کیا ملک کے سیکیولر آئین میں ترمیم کے لیے ریفرینڈم ہو گا۔

ابھی تک ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس فیصلے کا کوئی فوری طور پر کوئی اثر پڑے گا کیونکہ گیمبیا کی آمدن کا بڑا حصہ سیاحت سے آتا ہے اور صدر جامع ملک کو سخت گیر رہنما کی طرح چلا رہے ہیں۔

یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ گیمبیا کے نوجوان وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ انتہا پسندی کی جانب مائل ہوں کیونکہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کی وجہ سے تفاوت پیدا ہو سکتی ہے، غربت اور بے روزگاری بڑھ سکتی ہے۔

اس فیصلے کا خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

گیمبیا کے ہمسایہ ملک سینیگال اور مغربی افریقہ کے ممالک کی علاقائی تنظیم (اکنامک کمیونٹی آف ویسٹ افریقین سٹیٹس) کے ساتھ تعلقات خراب ہیں۔ یوں ملک تنہائی کا شکار ہے۔

افریقی تنظیم کی جانب سے خطے میں صدر کے زیادہ سے زیادہ بار منتخب ہونے سے متعلق تجوزہ کردہ پابندی کو صدر جامع اور ان کے ٹوگو کے ہم منصب نے مسترد کر دیا تھا جس کی وجہ سے یہ تنظیم میں زیادہ تنہا ہو گئے۔

صدر جامع نے 1994 میں بغاوت کے نتیجے میں اقتدار حاصل کیا تھا اور ابھی ان کا اقتدار سے الگ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں لگتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اس وقت گیمبیا کو سب سے بڑا خطرہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے جس میں سطح سمندر میں اضافے سے دارالحکومت بانجول کو خطرہ لاحق ہے۔

پہلے ہی بہترین ساحلی مقامات سمندر کی سطح بڑھنے کے نتیجے میں واضح طور پر متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے سیاحت کی صعنت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

مغرب اس کو کس طرح دیکھتا ہے؟

مغرب کے گیمبیا کے ساتھ تعلقات خراب ہیں کیونکہ اسے یہاں حقوق انسانی کی صورتحال پر تشویش ہے۔

گیمبیا نے دولتِ مشترکہ سے الگ ہونے کا فیصلہ حقوق انسانی کی صورت حال پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے کیا تھا جبکہ امریکہ نے حقوق انسانی کے مسئلے پر دسمبر 2015 میں گیمبیا کی افریقہ میں ترقی اور مواقع کے ایکٹ میں شرکت سے روک دیا تھا۔ اس کے علاوہ یورپی یونین نے حقوق انسانی کی صورت حال کی وجہ سے ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی امداد روک دی تھی۔

گیمبیا نے جون میں یورپی یونین کے نمائندے کو ملک سے نکال دیا تھا۔ گیمبیا کبھی بھی یورپ کے لیے سٹریٹیجک اعتبار سے اہم نہیں رہا اور اسی وجہ سے وہاں جو بھی ہوتا ہے اس کے لیے غیر اہم ہو گا۔

اسی بارے میں