میانمار میں سیاسی قیدیوں سمیت سو افراد رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کم سے کم 80 قیدیوں ی سزائے موت کو بھی عمر قید میں تبدیل کیا گیا ہے

میانمار کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی قیدیوں سمیت کم سے کم ایک سو قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔

یہ اقدام گذشتہ برس کے انتخابات میں جمہوریت پسند جماعت این ایل ڈی کی کامیابی کے نتیجے میں نئی پارلیمان کے قیام سے ایک ہفتہ قبل کیا گیا ہے۔

بدھ کو ہیڈ فون ’پہنانے‘ پر سزا

رہا کیے جانے والے افراد میں نیوزی لینڈ کے باشندے فلپ بلیک وڈ بھی شامل ہیں جنھیں بدھ مذہب کی توہین کے الزام میں دو برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انھیں مارچ میں اپنے بار کی تشہیر کے لیے مہاتما بدھ کی تصویر استعمال کرنے کے الزام میں جیل بھیجا گیا تھا۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ اسی مقدمے میں ان کے ہمراہ قید ہونے والے برما کے دو باشندے بھی رہا کیے جانے ہیں یا نہیں۔

ان قیدیوں کی رہائی کے لیے مہم چلانے والے تنظیم کا کہنا ہے کہ رہا ہونے والے 52 افراد سیاسی قیدی ہیں۔

کم سے کم 80 قیدیوں ی سزائے موت کو بھی عمر قید میں تبدیل کیا گیا ہے۔

صدر کے ترجمان نے فیس بک پر کہا ہے کہ مجموعی طور پر 102 قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔

میانمار کی سابق فوجی حکومت نے کم سے کم دو ہزار افراد کو سیاسی مخالفت کی بنا پر قید کر رکھا تھا جن میں صحافی بھی شامل ہیں۔ سنہ 2010 کے بعد سے ملک میں جمہوریت کے فروغ کے بعد سے سینکڑوں قیدی رہا کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فلپ بلیک وڈ کو بدھ مذہب کی توہین کے الزام میں دو برس قید کی سزا سنائی گئی تھی

اسی بارے میں