شام: ربیعہ پر حکومتی افواج کا کنٹرول

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption روسی فوجی افسران نے شہر پر حملے کی فوجی حکمتِ عملی بنانے میں مدد فراہم کی ہے

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکومت کی حامی فورسز نے ربیعہ کے شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

ربیعہ شام کے ساحلی صوبے لاتکیا میں باغیوں کے زیرِ قبضہ آخری شہر تھا۔

جنوبی شام میں فوج کی باغیوں کے خلاف بڑی کارروائی

شام: جنگجوؤں نے ’سینکڑوں‘ شہری اغوا کر لیے

شام: دولتِ اسلامیہ کے حملوں میں درجنوں ہلاک

شہر پر قبضے سے علاقے میں حکومتی افواج کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی اور باغیوں کے لیے ترکی کی سرحد کے راستے آنے والی رسد پر بھی دباؤ بڑھایا جاسکے گا۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیئرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے بقول شہر پر حکومت نواز فورسز کے قبضے میں روسی فضائیہ کی بمباری نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

سیئرین آبزرویٹری کاکہنا ہے کہ روسی فوجی افسران نے شہر پر حملے کی فوجی حکمتِ عملی بنانے میں بھی مدد فراہم کی ہے۔

ربیعہ کا حکومتی افواج کے ہاتھ آنا سرکاری فورسز کی ان کامیابیوں کا تسلسل ہے جن کا روس کی جانب سے شام کی خانہ جنگی میں صدر بشار السد کی حکومت کو فوجی مدد فراہم کرنے کے بعد آغاز ہوا تھا۔

واضح رہے کہ روس نے شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم اور دیگر گروہوں کے خلاف گزشتہ برس 30 ستمبر سے فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ شام کی جنگ میں کئی علاقوں میں بڑی تعداد میں عام شہری محصور بھی ہیں اور انھیں اشیائے خوردونوش اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں