طوطن خامن کے نقاب کی داڑھی جوڑنے میں لاپرواہی پر مقدمہ

Image caption طوطن خامن کی تین ہزار سال پرانی قبر کی کھدائی برطانوی ماہر آثار قدیمہ ہاورڈ کارٹر فلہین نے کی تھی۔

مصر کے ذرائع ابلاغ کے مطابق فرعون طوطن خامن کے مشہورِ زمانہ سنہرے دھاتی نقاب کی داڑھی دوبارہ جوڑنے کے معاملے میں قاہرہ کے عجائب گھر کے آٹھ ملازمین پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عجائب گھر کے حکام نے تقریباً ایک برس قبل قبول کیا تھا کہ طوطن خامن کے سنہرے نقاب کا داڑھی والا حصہ گلو کی مدد سے جوڑا گیا تھا۔

’طوطن خامن کے سنہرے نقاب کی بحالی ممکن‘

ملزمان پر لاپرواہی برتنے اور پیشہ وارانہ معیار کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور ان میں عجائب گھر کے ایک سابق ڈائریکٹر اور شعبۂ بحالی کے سابق ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔

تین ہزار برس قدیم یہ نقاب قاہرہ کے عجائب گھر کی مقبول ترین اشیا میں سے ہے اور ہر سال اسے دیکھنے کے لیے ہزاروں سیاح آتے ہیں۔

قاہرہ کے عجائب گھر کا افتتاح 1902 میں ہوا تھا اور اس میں تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار قدیم قیمتی نوادرات موجود ہیں۔

اس واقعے کے بعد یہ سوال بھی اٹھا تھا کہ کیا مصری حکام ان بیش قیمت نوادارت کی دیکھ بھال کے لائق بھی ہیں یا نہیں۔

ماہرین نے داڑھی کے نقاب سے الگ ہونے کے معاملے میں متعدد توجیہات پیش کی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قاہرہ کے عجائب گھر کا افتتاح 1902 میں ہوا تھا اور اس میں تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار قدیم قیمتی نوادرات موجود ہیں۔

ایک خیال یہ ہے کہ یہ حادثاتی طور پر الگ ہوئی جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسے چپکانے والا مادے کی صلاحیت ختم ہوئی گئی تھی۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ عجائب گھر کے ملازمین نے اپنی غلطی چھپانے کے لیے ’لاپرواہی‘ سے کام کیا اور بڑی مقدار میں گلو لگا کہ اسے جوڑنے کی کوشش کی۔

استغاثہ نے یہ بھی بتایا کہ داڑھی جوڑنے کی چار کوششیں کی گئی اور تین مرتبہ ناکامی کے ثبوت مٹانے کی کوشش بھی کی گئی۔

طوطن خامن کے نقاب کی داڑھی ٹوٹنے کی بات اس وقت سامنے آئی تھی جب انٹرنیٹ پر لگائی گئی اس نقاب کی تصاویر میں ٹھوڑی کے گرد چپکانے والے مادے کی لکیر دیکھی گئی تھی۔

گذشتہ برس اکتوبر میں آثارِ قدیمہ کی بحالی کے ایک جرمن ماہر کی زیرِ قیادت ایک ٹیم نے سنہرے دھاتی نقاب کو اس کی اصل حالت میں بحال کر دیا تھا۔

اسی بارے میں