تیل کی قیمت میں دوبارہ کمی کا رجحان

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption رواں ماہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 28 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گئی تھی

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں گذشتہ ہفتے بہتری آنے کے بعد پیر کو پھر گراوٹ آئی ہے۔

پیر کو قیمتوں میں کمی تیل برآمد کرنے والی ممالک کی تنظیم اوپیک کی اس اپیل کے نتیجے میں آئی جس میں تنظیم کے رکن ممالک اور تیل برآمد کرنے والے دیگر ممالک سے مل کر تعاون کرنے کا کہا گیا ہے۔

برینٹ کروڈ تیل کی قیمت میں گذشتہ جمعے کو 10 فیصد اضافہ ہوا تھا تاہم پیر کو 6.3 فیصد کم کر اس کی قمیت 30.15 پر آ گئی۔

اوپیک کے سیکریٹری جنرل عبداللہ البدری نے کہا ہے کہ اوپیک اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کو قیمتوں میں اضافے کے لیے طلب سے زیادہ پیدوار کے مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے لندن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’ بازار کو ضرورت ہے کہ زیادہ سٹاک کے مسئلے کو حل کرے، گذشتہ رجحانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ سٹاک کم ہوتا ہے تو قیمتوں میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔ ‘

اوپیک کے بااثر رکن ملک سعودی عرب کی جانب سے پیداوار میں کمی کے مسلسل انکار کے باوجود عبدللہ البدری نے اوپیک سے باہر کے ممالک کو ضرورت سے زیادہ تیل پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

’ ہاں، اوپیک نے گذشتہ برس کچھ اضافی تیل پیدا کیا تھا تاہم اس کا بڑا حصہ اوپیک سے باہر کے ممالک سے آیا۔‘

اوپیک تنظیم کے 12 رکن ممالک دنیا میں تیل کا 42 فیصد پیدا کرتے ہیں۔

اوپیک کے سیکریٹری جنرل عبداللہ البدری نے کہا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے تمام ممالک کو قیمتوں میں اضافے کے لیے پیدوار میں کمی کے طریقۂ کار پر اتفاق کرنا چاہیے۔موجودہ صورتحال مستقبل کو خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔ موجودہ قیمتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں درکار ضروری سرمایہ کاری ممکن نہیں۔‘

خیال رہے کہ رواں ماہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 28 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گئی تھی۔

دوسری جانب سے عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ دسمبر میں تیل کی ریکارڈ 41 لاکھ 30 ہزار پیدوار ہوئی جبکہ ایران عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد تیل کر برآمد دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔