’ بان کی مون دہشت کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون پر دہشت کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فلسطین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پسے ہوئے لوگوں کی انسانی فطرت ہوتی ہے کہ وہ قبضے کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

کیا ہم تیسرے انتقادہ کی طرف جا رہے ہیں: ویڈیواسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی کشیدگی میں اضافہ: ویڈیوفلسطینی مزاحمتی تحریکوں پر نظر: ویڈیو

سلامتی کونسل میں بات کرتے ہوئے بان کی مون نے فلسطینیوں کے اسرائیلیوں پر چاقوؤں سے حملوں کے حالیہ واقعات کی مذمت کی تھی۔

اکتوبر سے تشدد کے واقعات میں 155 فلسطینی اور 28 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’قبضے کے خلاف ردعمل انسانی فطرت ہے‘

’حملوں کی حالیہ لہر فلسطینیوں بطور خاص نوجوانوں میں تنہائی اور مایوسی کے گہرے احساس کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔نصف صدی سے قبضے اور امن کے عمل کے مفلوج ہونے کے بوجھ کی وجہ سے فلسطینیوں کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ‘

انھوں نے مزید کہا:’پسے ہوئے لوگ عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں، قبضے کے خلاف ردعمل انسانی فطرت ہے جس کے نتیجے میں اکثر نفرت اور انتہا پسندی کی زبردست افزائش ہوتی ہے۔‘

سیکریٹری جنرل بان کی مون نے حملوں کی مذمت کی لیکن اس کے ساتھ کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر اس کے فسلطینی ریاست کے قیام کے وعدے پر شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔‘

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایک بیان میں بان کی مون کے بیان کی مذمت کرتے کہا کہ ’سیکریٹری جنرل دہشت کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور دہشت کا کوئی جواز نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اکتوبر سے تشدد کے واقعات میں 155 فلسطینی اور 28 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں

انھوں نے الزام عائد کیا کہ فلسطین ریاست کے قیام کے خلاف کام کر رہا ہے۔

’فلسطینی قاتل ریاست قائم نہیں کرنا چاہتے ہیں، وہ ایک ریاست کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔وہ امن کے لیے قتل نہیں کرتے اور نہ ہی حقوق انسانی کے لیے قتل کرتے ہیں۔‘

وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’ اقوام متحدہ بہت عرصے پہلے ہی اپنی غیر جانبداری اور اخلاقی قوت کھو چکی ہے۔‘

اسی بارے میں