پناہ گزین بچوں کے لیے ڈرامے ہنسی مذاق کا موقع

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ’مائنڈنگ دا گیپ‘ منصوبے میں بچے اپنے ڈرامے خود لکھ کر ان میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے انسانی بحران کی صورتحال میں بچوں کے لیے ایک اپیل جاری کی ہے۔

یہ اپیل نہ صرف خوراک کی کمی اور تشدد سے نمٹنے کے بارے میں ہے بلکہ اس کا مقصد بچوں کی تعلیم اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنا بھی ہے۔

برطانوی دارالحکومت لندن کے شمال میں واقع ایک آزاد تھیٹر ان ہی مسائل سے نمٹتا ہے۔

کیا ڈرامہ پناہ گزینوں کی زندگیاں بدل سکتا ہے؟ تصاویر

’مائنڈنگ دا گیپ‘ نامی اس منصوبہ خاص طور پر پناہ گزینوں کے لیے بنایا گیا ہے اور یہاں بچوں کی ڈرامے کے ذریعے تعلیم کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے میں مدد کی جاتی ہے۔

ہفتے میں ایک بار 16 سالہ راکیش ناروتم دوپہر کو تھیٹر میں ہونے والے ڈراموں میں اداکاری کرتے ہیں، کاغذ کی کٹھپتلیاں اور ملبوسات بنانے کی تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔

بھارت کی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے راکیش مشکل سے انگریزی بولتے ہوئے کہتے ہیں: ’ہم ڈرامے بناتے ہیں، مجھے اداکاری بہت پسند ہے کیونکہ اس سے مجھے اعتماد ملتا ہے۔‘

دہ ماہ قبل بھارت سے برطانیہ منتقل ہونے سے پہلے راکیش نے کبھی تھیٹر کا رخ نہیں کیا تھا۔

اب تھیٹر کے ذریعے انھیں ان کمزوریوں کو ختم کرنے کا موقع مل رہا ہے جو ایک نئے ملک اور زبان کی شکل میں درپیش ہیں۔

Image caption رونک پاؤکی اپنے لکھے ہوئے ڈرامے میں اداکاری کر رہے ہیں

دوسرے ممالک سے برطانیہ آنے والے بچوں کو ایک نئے ملک میں بڑی تبدیلیوں سے گزرنا پڑتا ہے اور اس لحاظ سے اس تھیئٹر کا نام ’مائنڈ دا گیپ‘ اسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران میں اضافے سے ایسی تھیٹر ورک شاپس کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ٹرائیسکل تھیٹر، جہاں یہ منصوبہ دس برسوں سے چلایا جا رہا ہے کے ’کریٹو لرننگ ڈائریکٹر‘ لیئم شیا نے کہا: ’ہمارے پاس کل ملا کر200 بچے آتے ہیں اور گذشتہ سال سے ان کی تعداد دگنی ہو گئی ہے۔ اس سے آپ برطانیہ آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘

Image caption تھیٹر آنے والے بچوں کا زیادہ تر تعلق شام، افغانستان، ایرٹریا، بھارت، رومانیہ اور برازیل سے ہے
Image caption گذشتہ سال جولائی سے چھ کلاسیں شورع ہو کر اب 11 تک پڑھائی جاتی ہیں

لیئم شیا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میڈیا ہمیشہ پناہ گزینوں کے بارے میں بات کرتا ہے اور یہ نوجوان اس وجہ سے اپنے آپ کو محروم سمجھتے ہیں۔ ان کے لیے ایک ایسی جگہ ہونا بہت ضروری ہے جہاں ان کی سوچ کو اہمیت دی جاتی ہے۔‘

کم انگریزی بولنے والی جینی انگریزی میں پوچھتی ہیں: ’تہہ خانہ کس کو کہتے ہیں؟‘۔ پرتگالی زبان میں بات کرنے والی ان کی ساتھی قطرینہ ان کی زبان میں جواب دیتی ہیں ’ماسمورا‘، اور جینی اثبات میں سر ہلاتی ہیں۔

دونوں لڑکیوں سمیت پانچ بچے زمین پر لیٹ کر ایک کہانی لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ کوئی عام کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں وہ تمام نئے الفاظ شامل ہونے چاہیں جو انھیں استاد نے دیے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’شہزادہ اس لیے خوف زدہ ہے کیونکہ پولیس افسر نے اسے تہہ خانے میں ڈال دیا ہے، شہزادہ تہہ خانے میں اس لیے ہے کیونکہ اس نے ایک غار سے پیسے چرائے تھے۔‘

اس طرح وہ چھوٹے جملے بنا کر اپنے کردار بناتے ہیں۔ کہانی بنانے کے بعد انھیں اپنے گروپ میں سب کے ساتھ اس پر ایک ڈرامہ بنانا ہوگا جس میں وہ خود اہم کردار ادا کریں گے۔

Image caption سال کی اختتام میں بچے ٹرائیسکل تھیٹر کے سٹیج پر 300 لوگوں کے سامنا اپنا ڈراما پیش کرتے ہیں
Image caption اس عمل سے یہ بچے انگریزی کے نئے الفاظ سیکھنے کے ساتھ ساتھ آپس میں ہنسی مذاق بھی کر سکیں گے

منصوبے میں شامل ڈرامہ سکھانے والی نادیا پاپاکرونوپولو کہتی ہیں: ’یہ منصوبہ انھیں عظیم اداکار بنانے کے لیے نہیں شروع کیا گیا بلکہ انھیں زیادہ پر اعتماد بنانے کے لیے ہے۔ میں نے ان میں سے کئی بچوں کو ایک سال میں اتنا بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ پہلے تو یہ کچھ بھی بولنے سے شرماتے تھے۔‘

برطانیہ میں 10 سال پہلے آنے والے 17 سالہ رونک ماؤکی نے گذشتہ سال کے ڈرامے میں حصہ لیا تھا۔

انھوں نے کہا: ’جب ہم ڈرامے کرتے ہیں تو میں اپنے آپ کو ایسے ظاہر کر سکتا ہوں جیسے کہ میں عام طور پر نہیں کر سکتا۔‘

ٹرائیسکل تھیٹر لندن کے ’برینٹ‘ نامی علاقے میں واقع ہے جہاں کے سکولوں میں 120 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔

اس علاقے میں بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے۔

تازہ ترین اعداد شمار کے مطابق ادھر رہنے والے مقامی لوگوں میں 55 فیصد لوگوں کا تعلق بیرونی ممالک سے ہے۔

یہاں پر سکول جانے کی عمر والے بچوں کو سکول بھیجنے سے پہلے ’رِی سیپشن‘ کلاسوں میں شرکت کرنی پڑتی ہے جو معمول کی کلاسوں سے مختلف ہوتی ہیں اور جہاں انھیں انگریزی سکھائی جاتی ہے۔

یہ بچے ریاضی اور انگریزی سیکھتے ہیں لیکن عام سکولوں کی طرح آرٹس یا موسیقی نہیں پڑھتے۔

لیئم شیا کہتے ہیں: ’ہمیں یہ احساس ہوا کہ اس سے ان کے حوصلے پست ہو سکتے ہیں اس لیے ہم نے یہ پروگرام شروع کیا تاکہ یہ بچے تھوڑا بہت تخلیقی کام کر سکیں۔‘

نادیا پاپاکرونوپولو کہتی ہیں: ’میں انھیں کہتی ہوں، آپ جس حد تک ہو سکے پاگل پن اور احمقانہ پن کر سکتے ہیں۔‘

ڈائریکٹر بھی اس رائے سے متفق ہیں اور کہتے ہیں: ’ہم یہاں علاج یا تھیرپی نہیں کرتے، ہم ان بچوں کی ناخشگوار حالات سے بچنے کی خواہشات کو پورا کرتے ہیں۔‘

ایسا کر کے یہ تھیٹر رونق، نورا، راکیش، جینی، کاٹرینا اور سینکڑوں دیگر بچوں کو لندن میں اپنے گھر میں ایک زیادہ خشگوار زندگی جینے کا موقع دیتا ہے۔

اسی بارے میں