ترکی میں دو صحافیوں کو عمر قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جن دندار اور اردم گل کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنا کام کر رہے تھے

ترکی میں دو صحافیوں کو ترکی کی انٹیلی ایجنسی کی جانب سے مبینہ طور پر شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو اسلحہ مہیا کرنے سے متعلق خبر کی پاداش میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

دولت اسلامیہ ترکی کو تیل بیچ کر مزے کر رہی ہے: اسرائیلترک صحافیوں پر جاسوسی کا مقدمہ درج

استنبول سےشائع ہونے والے روزنامہ ’جمہوریت‘ کے ایڈیٹر ان چیف جان دوندر اور انقرہ میں اخبار کے دفتر کے بیورو چیف اردم گل پر جاسوسی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

استغاثہ نے ان پر ایک امریکی نژاد مولوی کے ساتھ مل کر ترک حکومت کو بدنام کرنے کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اس سخت سزا کے بعد ملک میں پریس کی آزادی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس معاملے کے بعد ملک میں احتجاج ہوا ہے

یورپی یونین کے ’اینلارجمنٹ کمشنر‘ جوہانز ہان نے کہا ہے کہ وہ اس سزا کی شدت سے حیران ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن راٹس واچ نے کہا ہے کہ ’وہ دونوں صحافی ہونے کے طور پر صرف اپنا کام کر رہے تھے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘

گذشتہ سال جمہوریت اخبار نے ویڈیو فوٹیج شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ترکی کی انٹیلی جنس اینجسی ایم آئی ٹی نے شام میں شدت پسندوں کو ٹرکوں کے ذریعے اسلحہ پہنچایا تھا۔

ترکی کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسی کے ٹرک شام میں موجود ترکمان اقلیت کے لیے امداد لےکر جا رہے تھے۔

لیکن اس رپورٹ کے بعد ملک میں سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا جس کے بعد ملک کے صدر رجب طیب اردوگان نے خود دونوں صحافیوں کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا۔

صدر اردگان نے کہا تھا کہ وہ ویڈیو فوٹیج ریاست کی ایک خفیہ بات تھی اور انھوں نے ٹی وی پر کہا تھا کہ دونوں صحافیوں کو ’ایک بڑی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘

دونوں صحافیوں کو گذشتہ سال 20 نومبر کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں 40 روز تک جیل میں اکیلا رکھا گیا تھا اور پھر ایک ہی جیل سیل میں رہنے کی اجازت ملی تھی۔

ترک حکومت نے صحافیوں پر ’حضمت‘ تحریک کو مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں، جس کی قیادت امریکی ریاست پنسلونیا میں خود ساختہ جلاوطنی میں رہنے والے ’فتح اللہ گولن‘ کی ہے۔

صدر اردگان نے فتح اللہ گولن پر اپنے خلاف سازش کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کی فتح اللہ نے تردید کی ہے۔

اسی بارے میں